ایک ہفتے میں ریلوے کی زمین پر بڑی عمارتیں گرانے کا حکم
- جمعرات 06 / فروری / 2020
- 4190
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ کراچی مین ریلوے کی زمین پر تعمیر کی گئی بڑی بڑی عمارتوں کو ایک ہفتے میں گرانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان نے سرکلر ریلوے اور لوکل ٹرین کی بحالی سے متعلق معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ حکومت چاہتی ہی نہیں کہ کراچی سرکلر ریلوے چلے۔ عدالت کی سماعت سے قبل سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر مختلف افراد جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کیا۔ بعد چیف جسٹس کے حکم پر عدالت عظمیٰ کے اسٹاف نے ان کی درخواستیں جمع کیں۔
کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سیکریٹری ریلوے، کمشنر، میئر کراچی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ و دیگر حکام پیش ہوئے۔ سماعت میں چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ سرکلر ریلوے اور لوکل ٹرین کی بحالی سے متعلق حکم پر عمل درآمد ہوا کہ نہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ عدالت نے ایک ماہ میں سرکلر اور لوکل ٹرین بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہم نے اس حوالے سے بریفنگ دی تھی۔ یہ پروجیکٹ اب سی پیک میں شامل ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم فریم ورک مکمل کرکے وفاقی حکومت کو 3 دفعہ بھیج چکے ہیں۔ سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ ہم تاخیر نہیں کر رہے جو ذمہ داری ہے پوری کر رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت سرکلر ریلوے چلانا ہی نہیں چاہتی۔
عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ ابھی وزیراعلیٰ سندھ اور سیکریٹری ریلوے کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہیں۔ میئر کراچی اور کمشنر کراچی کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں میرے ساتھ میں بتاتا ہوں کہ کیسے کام ہوتا ہے۔ آپ لوگ ذمہ داری پوری نہیں کرنا چاہتے۔ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ سیکریٹری ریلوے غلط بیانی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تجاوزات کا خاتمہ اور زمین سندھ حکومت کے حوالے کرنا ریلوے کی ذمہ داری تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کا بھی یہی عالم ہوگا۔ آج کچھ کہہ رہے ہیں، کل کچھ اور کہیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ صرف اپنا سیاسی ایجنڈے کی وجہ سے یہ نہیں کررہے۔ اسی دوران عدالت میں موجود وکیل بیرسٹر فیصل صدیقی نے بتایا کہ امیروں کی عمارتیں نہیں گرائی گئیں بلکہ صرف غریبوں کو بے گھر کردیا گیا۔
فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ 6 ہزار 500 لوگوں کو بے گھر کردیا گیا ہے۔ بڑے بڑے پلازے نہیں گرائے جارہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو کس نے اختیار دیا تھا کہ جاکر قبضہ کریں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حسن اسکوائر پر دیکھیں کیا کچھ بن گیا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سیکریٹری ریلوے کی سخت سرزنش کی اور ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے بابو کی طرح بات نہ کریں، کہانیاں مت سنائیں۔ ایسے نہیں چلے گا۔ ہمیں صرف یہ بتائیں کہ سرکلر ریلوے کیوں نہیں چلی۔ اس پر سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ سندھ حکومت رکاوٹ ہے، جس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اسی دوران سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ معاہدے کے مطابق اب سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی وزیراعلیٰ کو بلا کر پوچھتے ہیں کہ کس کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے سیکریٹری ریلوے سے پوچھا کہ آپ بتائیں سرکلر ریلوے کی زمین آپ نے سندھ حکومت کو دے دی؟ جب آرڈر پاس ہوا تھا تو ساری چیزیں موجود تھیں آپ ان مسائل کے بارے میں نہیں جانتے تھے؟
سیکریٹری ریلوے نے عدالت میں کہا کہ گرین لائن بن گئی ہے لیکن سرکلر ریلوے نہیں چل سکتی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ برسوں سے صرف اجلاس چل رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی حل نہیں نکالا گیا۔