سینیٹ نے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک مسترد کردی

  • جمعرات 06 / فروری / 2020
  • 4230

امریکہ کی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی حتمی سماعت اور رائے شماری کے بعد صدر ٹرمپ کو دونوں الزامات سے بری کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ میں تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے بدھ کی شام سینیٹ کی کارروائی کی صدارت کی۔ رائے شماری سے پہلے ہونے والی تقاریر میں قانون سازوں کی اکثریت نے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کے الزام پر اضطراب کا اظہار کیا۔ اسی مہم کے نتیجے میں صدر ٹرمپ پر دو الزامات لگائے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے بذریعہ فون یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اپنے ممکنہ ڈیموکریٹک صدارتی حریف جو بائیڈن اور ان کے صاحبزادے کے خلاف بد عنوانی کی تحقیقات کریں۔  یاد رہے کہ امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن نے یوکرین کی گیس کمپنی میں ملازمت حاصل کر رکھی تھی۔

صدر ٹرمپ پر دوسرا الزام یہ تھا کہ وہ کانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان دونوں الزامات پر منگل کو سینیٹ میں الگ الگ رائے شماری ہوئی جس میں تمام 100 سینیٹروں نے حصہ لیا۔

اختیارات کے غلط استعمال کے الزام کو 48 کے مقابلے میں 52 سینٹروں نے مسترد کیا جب کہ کانگریس کی راہ میں رکاوٹ کے الزام کو 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے مسترد کیا گیا۔ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے 100 ارکان کے ایوان میں دو تہائی ووٹوں کی ضرورت تھی۔ تاہم ڈیموکریٹس کے پاس ایوان میں 47 اور ری پبلکن کے پاس 53 ووٹ تھے۔

سینیٹ کے فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ مواخذے کی متعصبانہ کارروائی میں ملک کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور وہ اس حوالے سے جمعرات کو وائٹ ہاؤس سے اپنا بیان بھی جاری کریں گے۔ منگل کو مواخذے کی کارروائی کے دوران حتمی ووٹنگ میں یہ واضح تھا کہ سینیٹروں نے اپنی جماعتوں کے مؤقف کے مطابق رائے دی۔ رائے شماری سے پہلے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے مٹ رومنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ مواخذے کے معاملے پر اپنی پارٹی کی سوچ سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ اپنی سوچ اور عقیدے کے مطابق ووٹ دیں گے۔  انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے عوام کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچانے کا جرم کیا ہے۔ جو عمل صدر نے کیا وہ انتہائی غلط تھا۔

سینیٹ سے پہلے ایوانِ نمائندگان نے ان دو الزامات کے تحت صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی تھی۔ منگل کی رات اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے مواخذے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ البتہ انہوں نے اس عمل کو اب تک 'خام خیالی' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔