وفاقی حکومت آئندہ چھ ماہ میں 19 کھرب روپے قرض لے گی
- جمعہ 07 / فروری / 2020
- 5600
وفاقی حکومت نے آئندہ 6 ماہ میں مزید 19 کھرب روپے سے زائد کا قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں حکومت نے تحریری طور پر تسلیم کیا ہے کہ رواں سال جنوری سے جولائی تک مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے کے 19 کھرب روپے سے زائد کا مزید قرضہ لیا جائے گا۔
حکومت اندرونی طور پر 800 ارب جب کہ بیرونی ذرائع سے 11 ارب روپے کا قرضہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ حکومت قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کر رہی ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ حکومتی قرضے کی ضرورت محاصل اور اخراجات کے درمیان فرق پر منحصر ہے۔ حکومتی قرضے کی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے بھی ضرورت پڑتی ہے جن کے لیے کثیر وسائل درکار ہوتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران تحریری جواب میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ حکومت کو 2023 تک 122 کھرب 61 ارب روپے کا اندرونی جب کہ 28 ارب 20 کروڑ ڈالرز سے زائد بیرونی قرض واپس کرنا ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دور حکومت کے پہلے ایک سال میں ریکارڈ قرض لیا۔ یہ قرضہ اگست 2018 تا اگست 2019 کے دوران لیا گیا، جس سے ایک سال میں غیر ملکی قرضے میں 2804 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے ایک سال میں قرضوں میں 7 ہزار 509 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں 4 ہزار 705 ارب اور غیر ملکی قرضے میں 2 ہزار 804 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔