قومی اسمبلی میں بچوں پر جنسی تشدد کے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد منظور

  • جمعہ 07 / فروری / 2020
  • 4590

پاکستان کی قومی اسمبلی نے بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کی ایک قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی میں بچوں کی حفاظت سے متعلق زینب کے نام سے جو بل منظور کیا گیا تھا اس میں ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے عمر قید کی سزا تجویز کی گئی تھی۔

بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ اس وقت زور پکڑ گیا تھا جب پنجاب کے شہر قصور کی سات برس کی زینب کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت کی طرف سے پیش کی جانے والی اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم یہ چاہتے ہیں کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر اُنہیں قتل کے مقدمات میں ملوث مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ جب یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمٹیی برائے انسانی حقوق میں پیش کیا گیا تھا تو وہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی نے سزائے موت کی مخالفت کی تھی اور عمر قید کی سزا تجویز کی تھی جس کے بعد قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو قومی اسمبلی میں منظور کر لیا گیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس قائمہ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی سے اس بل کی منظوری کے بعد اب یہ بل سینیٹ میں ہے لیکن وہاں سے ابھی منظور نہیں ہوا، اس لیے اس قرارداد کو منظور کرنے کے بعد اس کو بل کا حصہ بنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ معاشرے میں کمسن بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بچے نہ صرف عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ ان کے والدین اور رشتہ دار بھی سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔

علی محمد خان نے کہا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو عبرت کا نشان بنانا اب ناگزیر ہو گیا ہے۔ وزیر مملکت کی طرف سے اس قرارداد پر ایوان میں جب ووٹنگ کروائی گئی تو پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت جبکہ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون اور جمعت علمائے اسلام نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سزائے موت سے متعلق پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کا پابند ہے اس لیے ان کی جماعت موت کی سزا کی حمایت نہیں کر سکتی۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس قرارداد کی منظوری کے بعد ٹوئٹر پر لکھا کہ ’سرعام پھانسی کی جو قرارداد آج قومی اسمبلی میں منظور کی گئی ہے وہ تمام جماعتوں کی رضامندی سے ہوئی اور یہ حکومت کی پیش کردہ قرارداد نہیں بلکہ ایک انفرادی عمل ہے۔ ہم میں سے بہت سے اس کی مخالفت کرتے ہیں‘۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی ٹوئٹر پر اس قرارداد کو انتہا پسندی کا اظہار قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے صحافی ایم بی سومرو کا کہنا ہے کہ اس قرارداد کی منظوری کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ یہ بل دوبارہ قومی اسمبلی میں آئے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ وقتی طور پر اس قرارداد کی سیاسی حیثیت تو ہے لیکن قانونی حثیت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک اس بارے میں کوئی قانون سازی نہیں ہو جاتی۔