ملکی برآمدات میں 2 ماہ سے مسلسل کمی

  • ہفتہ 08 / فروری / 2020
  • 4440

نقد ادائیگی میں سبسڈی دینے اور کرنسی کی قدر میں متعدد مرتبہ کمی کے باوجود پاکستانی اشیا کی برآمد میں مسلسل 2 ماہ میں کمی دیکھی گئی ہے۔ حکومت  نے اسے درست کرنے کے اقدامات نہیں اٹھائے۔

پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ برآمدات میں کمی گزشتہ برس دسمبر سے ہونا شروع ہوئی جب یہ 3.8 فیصد تک گر گئی تھی اور جنوری 2020 میں بھی کمی کا یہ سلسلہ برقرار رہا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ جس میں برآمدات میں اس کمی کی وضاحت کی گئی ہو۔ ملک کے مینوفیکچرنگ شعبے کی شرح نمو گزشتہ برس جولائی سے منفی ہے لیکن پھر بھی وزارت کی توجہ بین الاقوامی تجارتی معاہدوں اور مارکیٹس تک رسائی پر ہے۔

اب تک کسی ترجیحی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے ملک کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا البتہ درآمدات کے حجم میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب متعدد ڈیڈلائنز کے باوجود حکومت اب تک صنعتی اور ٹیکسٹائل پالیسیز کو حتمی شکل نہیں دے سکی۔ توقع کے برعکس جنوری 2020 میں برآمدات کی منفی نمو 3.17 فیصد ہو کر ایک ارب 97 کروڑ ڈالر ہوگئی جبکہ گزشتہ برس کے اسی ماہ کے دوران یہ 2 ارب 3 کروڑ ڈالر تھی۔

جولائی 2019اور جنوری 2020 کے دوران برآمد کی نمو میں 2.14 فیصد کمی ہوئی اور یہ گزشتہ برس کے اسے عرصے کے 13 ارب 49 ڈالر کے مقابلے میں 13 ارب 21 کروڑ ڈالر ہوگئی۔ یہ بھی یاد رہے کہ حکومت نے مالی سال2019 میں 24 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے رواں مالی سال کے دوران برآمدات کے لیے 26 ارب 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا ہدف مقرر کیا تھا۔

مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں حکومت نے برآمدات کی مصنوعات میں استعمال ہونے والے خام مال اور نیم تیار اشیا کی لاگت میں کمی کردی تھی اور انہیں تمام کسٹم ڈیوٹیز سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے شعبہ برآمدات کو سیلز ٹیکس ریفنڈ فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ ملک کا تجارتی خسارہ ایک سال قبل کے مقابلے میں رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں 28.4 فیصد تک کم ہوچکا ہے۔ اس کمی کی بڑی وجہ درآمدات میں کمی ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں درآمدات کی سطح 27 ارب 24 کروڑ ڈالر رہی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 32 ارب 42 کروڑ ڈالر سے 15.95 فیصد کم ہے۔ جنوری کے مہینے میں درآمدی اشیا کی قدر گزشتہ برس کے اسی ماہ کے 4 ارب 46 کروڑ ڈالر کے مقابلے 9.63 فیصد کمی کے ساتھ 4 ارب 3کروڑ ڈالر تھی۔