چین میں کرونا وائرس سے 722 ہلاکتیں، ہانگ کانگ نے قرنطینہ نافذ
- ہفتہ 08 / فروری / 2020
- 4740
چین میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 722 ہو گئی ہے جب کہ ہانگ کانگ نے اپنے علاقے میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے قرنطینہ نافذ کر دیا ہے۔
ہفتے کو چین میں کرونا وائرس سے 86 افراد ہلاک ہوئے۔ کرونا وائرس سے ایک دن میں ہلاکتوں کی یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ہفتے کو مزید کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد لگ بھگ 35 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ چین کے علاوہ اب تک 30 ممالک میں کرونا وائرس کے 320 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ہانگ کانگ نے اپنے علاقے میں قرنطینہ نافذ کرتے ہوئے چین سے کسی بھی شخص کی آمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو جیل اور جرمانے کی سزائیں بھگتنا ہوں گی۔ ہانگ کانگ میں ابب تک کرونا وائرس کے 25 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ خیال رہے کہ چین کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے ہانگ کانگ میں یہ وبا ہھیلنے کا خطرہ دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔
ادھر کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ووہان سمیت چین کے کئی شہروں میں لاک ڈاؤن جاری ہے جب کہ ہزاروں افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ صوبہ ہوبی میں گزشتہ دو ہفتوں سے لاک ڈاؤن ہے۔ ریلوے اسٹیشنز اور ایئر پورٹس بند اور سڑکیں سیل ہیں۔ جاپان میں ٹوکیو کے جنوب میں واقع بندرگاہ یوکوہاما میں بحری جہاز پر سوار 61 افراد میں بھی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔
امریکہ میں ووہان سے مزید 350 امریکی شہریوں کو چین سے نکال کر کیلی فورنیا کے دو فوجی اڈوں پر واقع قرنطینہ میں رکھا ہے۔ امریکہ سمیت دو درجن سے زیادہ فضائی کمپنیوں نے چین اور دیگر متاثر ممالک کے لیے پروازیں معطل یا محدود کر دی ہیں۔ چین میں دو ہفتوں سے کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
تائیوان نے گزشتہ 14 دن کے دوران چین میں مقیم غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی میں توسیع کر دی ہے۔ ادھر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ماہرین اگلے ہفتے تک جنیوا میں اکھٹے ہوں گے تاکہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد ویکسین دریافت کی جاسکے۔
چین کی وزارت نیشنل ہیلتھ کے ایک بیان کے مطابق نائب وزیر خارجہ لی یوچینگ نے کہا ہے کہ چینی عوام وبا سے نمٹنے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور پُر امید ہیں کہ جلد یہ جنگ جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔