مہنگائی سے ڈر لگتا ہے
- تحریر
- ہفتہ 08 / فروری / 2020
- 9130
جنوری کے دوران مہنگائی میں ریکارڈ اضافے کی تصدیق اسی ہفتے جاری اعدادوشمار سے ہوئی۔ روزمرہ استعمال اور خوراک کی خریداری کرنے والوں پر تو یہ انکشاف روز ہی ہوتا ہے کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے لیکن جنوری کے پورے مہینے میں انہیں یہ محسوس ہوتا رہا ہے کہ اس مہینے میں کچھ خاص ہے۔
اب ادارہ شماریات نے ملک بھر میں حساب کتاب جوڑ کر بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ افراط ِز ر میں بارہ سالوں کے بعد 14.6% کا ریکارڈ توڑ اضافہ ہوا۔ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ البتہ شہروں سے کہیں زیادہ تھا بالخصوص اشیائے خوردو نوش میں۔ گزشتہ کئی ماہ سے مہنگائی کو ایک پل چین نہیں۔کبھی ٹماٹر مہنگا تو کبھی پیاز، کبھی بجلی مزید مہنگی تو کبھی گیس کے بل زیادہ۔ چند ہفتے تک گندم اور آٹے کی قلت اور قیمت میں اضافے کی ہاہا کار رہی۔ اسی ہاؤ ہو میں پتہ چلا کہ چینی بھی مزید مہنگی ہو گئی۔ ایک کے بعد ایک شے آخر مہنگی کیوں ہو رہی ہے؟ ہر ایک کے ذہن میں یہ سوال دن میں کئی بار گونجتا ہے۔ شام کو ٹاک شوز میں یہ سوال اور اس کے جوابات کی پنگ پانگ مزید کنفیوژ کر دیتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ایک خوبی ہے کہ جو بات دل کو لگے اسے زبان پر بھی لگی لپٹی رکھے بغیر لے آتے ہیں۔ انہوں نے کمال صاف گوئی سے حالیہ مہنگائی کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ سب کیا دھرا مافیاز کا ہے۔
ہمارے دوست عبدل کا خیال ہے کہ ان مافیاز کی سرکوبی اب طے سمجھیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی یہ خوبی ہے کہ ایک بار انہیں علم ہوجائے کہ فلاں فلاں ذمہ دار ہے تو وہ پھر چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ ان پہ یقین لانے میں مگر وہ مختلف پریس رپورٹس اور درجنوں ٹی ٹاک شوز مانع رہے جن میں ان کے اپنے وزرا اور ان کے مخالفین جن ناموں، قوتوں اور انتظامی غفلتوں کا ذکر کرتے رہے مگر ابھی تک تو بقول شخصے کسی کا بھی بال تک بیکا نہیں ہوا۔ اسی دوران گندم بحران کی تحقیقاتی رپورٹ بھی حکومت کو موصول ہو گئی ہے، جس پر پنجاب کی صوبائی حکومت کو تحفظات ہیں۔
عبیداللہ علیم اپنے وقت کے زبردست مزاحمتی شاعر تھے۔ ان کے کئی اشعار آج بھی ضرب الامثال ہیں۔ ان کا یک خوبصورت اور حسبِ حال شعر ہے:
جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
عوام کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ مہنگائی کے اصل ذمہ دار پچھلے حکمران ہیں چند مافیاز، مہنگائی ان کی جیب اور جان کے در پے ہے۔ تازہ ترین سروے اور اعداد وشمار سے ایک اور خطرناک رجحان سامنے آیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیامیں افراط شہروں کی نسبت دیہی علاقوں میں ٌ زیادہ ہے۔ نان فوڈ افراطِ زر میں بھی دیہی علاقوں میں مہنگائی شہروں سے زیادہ پائی گئی۔ یہ تشویشناک امر ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں بڑی چھوٹی فصلوں کی گزشتہ سال اور اس سال کمی نے کسانوں کی آمدن کو شدید متاثر کیا ہے۔ رہی سہی کسر مہنگے زرعی ضروریات نے پوری کر دی ہے۔ دیہی علاقوں میں قوت خرید پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے، اس پر مستزاد مہنگائی کا ریلا شہروں سے زیادہ دیہات میں ہونے سے بے چینی اور پریشانی میں اضافہ لازم ہے۔
مہنگائی کا رونا دھونا اپنی جگہ، حکومت کو اپنے سہ ماہی ٹارگٹس کے حوالے سے آئی ایم ایف کے اسلام آباد میں موجود جائزہ مشن کو مطمئن کرنا بھی ایک کارِ دارد بنا ہوا ہے۔ حکومت تجارتی خسارہ اور اپنے اخراجات میں کمی کرنے میں تو کامیاب ہوئی ہے لیکن ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ میں پہلے چھ ماہ کے دوران کمی نے اسے مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ شنید ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے ٹارگٹ کم کرنے کی درخواست کی ہے لیکن جواب شاید حوصلہ افزا نہیں۔ اس دوران ایف بی آر کے چئیرمین کی بیماری پر رخصت اور بعد ازاں اس رخصت میں مزید توسیع نے افواہوں کا بازار خوب گرم کر دیا ہے۔
حکومتی محاصل میں کمی کو پورا کرنے کے لئے حالیہ چند ہفتوں میں بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے بعد گیس میں اضافے کی تیاریاں پریس میں بار بار رپورٹ ہوئیں۔ بلکہ یہ بھی رپورٹ ہو اکہ گندم اور آٹے کے بحران پر جنم لینے والی سیاسی بے چینی، اپوزیشن کے جارحانہ رویے اور میڈیا میں اس بحران پر جمائی گئی دھما چوکری کے سبب دو بار گیس کی سمری ای سی سی کے لئے تیار کی گئی مگر عین وقت پر روک لی گئی۔ حکومتی محاصل میں شارٹ فال کے سبب منی بجٹ لانے کی افواہوں نے بھی سر اٹھایا جس کی حکومتی ذمہ داروں نے تردید کی۔
آئی ایم ایف جائزہ مشن ابھی اپنے سہ ماہی مشن سے فارغ نہیں ہوا۔ حکومت اور اس جائزہ مشن میں پرانے اہداف پر ہی اکتفا ہو تا ہے یا نئے اہداف ناگزیر پائے جاتے ہیں، آنے والے دنوں میں مہنگائی کے لئے یہ اقدامات بہت اہم ہوں گے۔ دو ہفتے قبل اسٹیٹ بنک گورنر کے مطابق شرح سود برقرار رکھنے کی وجہ یہی ہے کہ مالیاتی استحکام اپنے پاؤ ں جما رہا ہے۔ ان کے بقول عالمی سرمایہ کار پاکستان میں دھڑادھڑ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ شنید ہے کہ حکومت کے ٹی بلز میں عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے پیشِ نظر زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے کے لئے شاید حکومت یورو بانڈز کے اجرا کا ارادہ ملتوی کرکے سرمایہ کاری کے اس رجحان پر ہی تکیہ کرے۔ ایسی صورت میں شاید رواں مالی سال کے آخر تک اس سرمایہ کاری کا حجم پانچ ارب ڈالرز تک پہنچنے کی توقع بتائی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کا اصرار ہے کہ معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ افراظ زر کے حالیہ اعداد و شمار سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کھانے کی اشیا میں اکثر سبزیوں اور فروٹ کا نیا سیزن شروع ہوچکا، سو طلب اور رسد پر دباؤ آسودہ ہونے کے دن آگئے ہیں۔ رہی صنعت میں کساد بازاری کی بات تو ان کے مطابق سیمنٹ سیکٹر کی سیلز میں قدر بہتری کنسٹرکشن میں ہلچل کی خبر دیتی ہے۔ بقول ان کے حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کے سبب معیشت میں استحکام کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔
اللہ کرے ایسا ہی ہو مگر پچھلے دنوں گورنر پنجاب فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری گئے تو انہیں صنعتکاروں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ اس محفل کی ایک ویڈیو بھی بہت وائرل ہوئی جس میں ایک صنعتکار انہیں اپنی بپتا سنانے کے کے بعد یہ آفر کرتا ہے کہ وہ اپنے کارخانے کی چابیاں انہیں دینے کو تیار ہیں کہ اب انڈسٹری چلانے کا بھاری پتھر ان سے اٹھایا نہیں جاتا۔
کل پرسوں کی ایک حوصلہ افزا خبر یہ بھی ہے کہ موڈیز نے پاکستان کے بینکوں کی ریٹنگ مستحکم رکھی ہے کہ بقول اس کے پاکستانی بینکوں کا دھندا اچھا جا رہا ہے۔ ایک اور اچھی خبر یہ بھی ہے کہ اسٹیٹ بنک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں تین سو ملین کے لگ بھگ اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب خبریں حوصلہ افزا ہیں لیکن عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ بینکوں کے منافع اور مارک اپ کے فرق میں اضافے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں ایک بار پھر اضافے سے ان کی مہنگائی کا توڑ نہیں ہوتا۔ سبزی فروٹ اور گوشت والا اس ہاتھ سودا دیتا ہے تو دوسرے ہاتھ پیسے وصول کرتا ہے۔ اب ایسے میں اسے حکومت، آئی ایم ایف کی نیک نیتی اور موڈیز کی ریٹنگ پر یقین کرنے کو بہت دل چاہتا ہے لیکن کیا کریں مہنگائی سے ڈر ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔