احسان اللہ احسان کے مبینہ فرار پر توہین عدالت کی درخواست
- اتوار 09 / فروری / 2020
- 4910
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فوجی تحویل سے مبینہ فرار کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
یہ درخواست 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کی تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار فضل خان ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے 13 دسمبر 2017 کے حکم نامے میں وفاقی حکومت کو پابند کیا تھا کہ نہ تو احسان اللہ احسان کو رہا کیا جائے اور نہ ہی اُنہیں عام معافی دی جائے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اُنہیں سوشل میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کی تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ لہذٰا عدالت وفاقی حکومت سے اس بابت وضاحت طلب کرے۔ خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں حملے سے 133 بچوں سمیت 148 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے اپنے ترجمان احسان اللہ احسان کے ذریعے قبول کی تھی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے 13 دسمبر کے حکم نامے میں ہدایت کی تھی کہ احسان اللہ احسان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فضل خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ نجی ٹی وی پر احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر ہونے پر اُنہوں نے پانچ مئی 2017 کو پشاور ہائی کورٹ سے رُجوع کیا تھا۔ اس پٹیشن میں وزارتِ دفاع اور دیگر تحقیقاتی اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔ فضل خان ایڈوکیٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ یوں لگتا ہے کہ احسان اللہ احسان کو منظم منصوبہ بندی کے تحت فرار ہونے کا موقع دیا گیا۔
توہین عدالت کی اس درخواست میں فضل خان ایڈوکیٹ نے وزارتِ دفاع اور تحقیقاتی اداروں کو فریق بنایا ہے۔ حکومت یا سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تاحال احسان اللہ احسان کے مبینہ طور پر فرار ہونے کی اطلاع پر باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
احسان اللہ احسان کی فوجی تحویل سے فرار کی خبریں گزشتہ ماہ سامنے آئی تھیں۔ لیکن پاکستان کی فوج نے ان خبروں کی نہ تو تصدیق کی تھی اور نہ ہی کوئی تردید سامنے آئی تھی۔ چند روز سے احسان اللہ احسان کا ایک آڈیو پیغام سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ جس میں وہ پاکستانی فوج کی تحویل سے فرار ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔