وزیراعظم نے بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں فوری کمی کا حکم دے دیا

  • اتوار 09 / فروری / 2020
  • 6830

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے پاکستان تحریک انصاف  کی حکومت، وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کا اعلان کرے گی۔

ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے ان مشکلات کا ادراک ہے جن کا تنخواہ دار طبقے سمیت مجموعی طور پر عوام کو سامنا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، میری حکومت منگل کو کابینہ کے اجلاس میں عوام کے لیے بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کی خاطر مختلف اقدامات کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ حکومتی ادارے آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب کی جامع تحقیقات کا آغاز کرچکے ہیں۔  قوم اطمینان رکھے ذمہ داروں کا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

ملک میں مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے حکومت پر بڑے پیمانے پر تنقید کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم نے معاشی ٹیم کے اراکین کو 15 روز میں بنیادی غذائی اجناس خاص طور گندم، آٹے، چینی، چاول اور دالوں کی قیمتوں میں 15 روز میں کمی لانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے یہ ہدایات بنی گالہ میں اجلاس کی صدارت کے دوران کی گئیں جس میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ اور ریونیو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی، ڈاکٹر ثانیہ نشتر شریک تھیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی اور انسانی ترقی ذوالفقار بخاری، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین، شہباز گل اور یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے چیئرمین بھی شریک تھے۔

اجلاس میں شریک ایک فرد نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی حکومت عوام کو ریلیف اور بنیادی اشیا فراہم نہیں کرسکتی تو اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ اجلاس میں شرکا نے بنیادی غذائی اجناس کی طلب اور رسد کی پوزیشن کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو بتایا کہ وہ ضروری اشیا کی قیمتوں میں فوری کمی دیکھنا چاہتے ہیں اور صرف 15 روز میں نتائج چاہتے ہیں۔  وزیراعظم کا ماننا ہے کہ مہنگائی گزشتہ حکومتوں کی 'کرپشن اور لوٹ مار' کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے آٹے کے بحران کے دوران قابلِ ذکر کام کیا جس سے ان کی سیلز میں 800 فیصد اضافہ ہوا۔

وزیراعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے انفرا اسٹرکچر میں بہتری لانے کی ضرورت پر زور دیا اور بنیادی غذائی اجناس کی اشیا کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے مزید فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ادارہ شماریات کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جنوری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12 سال کی بلند ترین سطح 14.6 فیصد پر آگئی جبکہ گزشتہ سال دسمبر میں یہ 12.6 فیصد تھی۔ اشیائے خورونوش خاص طور پر گندم اور آٹے، دالوں، چینی، گڑ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جنوری کے مہینے میں مہنگائی کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔