اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی بحال کردی
- منگل 11 / فروری / 2020
- 4540
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میڈیکل کمیشن کے قیام اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کرنے کا صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار دیا ہے۔ اس حکم میںپی ایم ڈی سی ملازمین کو بحال کردیا گیا ہے۔
پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے کی۔ یاد رہے کہ 20 اکتوبر کو صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرڈیننس نافذ کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو تحلیل کردیا تھا جس کے نتیجے میں پی ایم سی کے نام سے نئے ادارے کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔
28 اکتوبر کو پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر حفیظ الدین اور 31 ملازمین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کونسل کو تحلیل کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ درخواست پر عدالت نے صدر مملکت، کابینہ ڈویژن، وزارت قانون اور وزارت صحت کے سیکریٹریز، اٹارنی جنرل اور نو تشکیل شدہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے صدر کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ اپنا مؤقف بیان کرنے کا کوئی موقع دیے گئے بغیر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ملازمین کو برطرف کردیا گیا۔ ان خدشات کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن، برطرف کیے گئے ملازمین کی جگہ نئی بھرتیوں اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر نوکریوں کا اشتہار دے سکتی ہے، جس سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ملازمین کی حق تلفی ہوگی۔
درخواست میں عدالت سے پی ایم سی کے قیام سے متعلق آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی اور پی ایم ڈی سی کے ملازمین کو نو تشکیل کردہ کمیشن میں ملازمت جاری رکھنے کی اجازت دینے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔
درخواست پر آج فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی تحلیل کرنے کا صدارتی آرڈیننس کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے پاکستان میڈیکل کمیشن کو ختم کرنے اور ملازمین کو بحال کرنے کا بھی مختصر حکم سنایا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
حکومت نے پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس کی منظوری کے تناظر میں پاکستان کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل ڈاکٹروں کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن سے متعلق انتہائی اہم ریکارڈز اور میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی حفاظت کے لیے فوری ایکشن لیا تھا۔ وزارت برائے قومی صحت نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے پاکستان میڈیکل کونسل کی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور کونسل کے 220 ملازمین کو ہدایت کی تھی کہ دفتر ایک ہفتے کے لیے بند رہے گا۔
پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے نفاذ سے پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو غیرمعمولی اختیار تفویض ہوگئے تھے، جس کے تحت وہ اپنی مرضی سے فیس کا تعین کرسکتے تھے۔