کورونا وائرس سے ہلاکتیں ایک ہزار سے تجاوز کر گئیں
- منگل 11 / فروری / 2020
- 4300
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے چین کا سفر نہ کرنے کے باوجود وائرس کا شکار ہونے والے افراد کو زیادہ بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں ایک ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے حفاظتی ماسک پہن کر طبی عملے اور مریضوں سے گفتگو کی۔ اس دوران عالمی ادارہ صحت کے ماہرین پر مشتمل ایک جدید ترین ٹیم چین پہنچ چکی ہے۔ چین کو وائرس کے پھیلاؤ سے روکنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ وائرس سے اب تک 25 ملکوں کے 42 ہزار افراد متاثر ہوچکے ہیں۔
منگل کو اس وائرس سے مزید 108 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ وائرس سے پہلی ہلاکت 11 جنوری کو رپورٹ ہوئی تھی۔ تیزی سے پھیلاؤ کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وائرس کو پھیلاؤ سے روکنے کے لیے چین نے مختلف شہروں میں کروڑوں لوگوں کو بند کردیا ہے جبکہ متعدد حکومتوں نے چین سے مسافروں کی آمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ دنیا کی متعدد ایئرلائنز نے وائرس کے خطرے کے سبب چین کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔
اب اس وائرس کے پھیلاؤ کا نیا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ وائرس سے ہلاک ہونے والے برطانوی شہری نے کبھی چین کا سفر نہیں کیا تھا اور اس سے 11 افراد متاثر ہوئے۔ اس خبر سے عالمی ادارہ صحت سمیت دنیا بھر کے ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بیرون ملک وائرس کا شکار ہونے والے اکثر افراد چین کے صوبہ ہوبے کے شہر ووہان سے تعلق رکھتے تھے یا پھر وہ ووہان میں رہنے والے افراد کی وجہ سے اس وائرس کی زد میں آئے۔ برطانوی شہری کا نام ظاہر نہیں کیا گیا لیکن وہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سنگاپور گئے تھے اور وہاں وہ وائرس کا شکار ہوئے اور فرانس میں چھٹیوں کے دوران یہ وائرس ان سے دیگر افراد میں منتقل ہوا جس کے بعد برطانیہ واپسی پر ان میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
اس شخص سے وائرس میں مبتلا ہونے والے پانچ افراد فرانس، پانچ برطانیہ اور ایک اسپین میں زیر علاج ہے۔ اس نئے خطرے پر عالمی ادارہ صحت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی سربراہ نے کہا کہ چند افراد میں وائرس کی تشخیص بہت بڑے خطرے کا سبب بن سکتی ہے لیکن ابھی ہماری توجہ اس وائرس کی روک تھام پر مرکوز ہے۔
برطانوی حکومت نے ملک میں 8 افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد نوول کورونا وائرس کو بڑا اور سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب جس شخص میں بھی وائرس کی علامات ظاہر ہوں گی تو اسے کسی الگ جگہ پر رکھا جائے گا۔
اس دوران چین نے وائرس کے بارے میں اطلاع ملنے کے باوجود کوتاہی برتنے والے دو اعلیٰ حکام کو نوکری سے برخاست کردیا ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کے سبب دارالحکومت ووہان سمیت صوبہ ہوبے کے ساڑھے 5 کروڑ سے زائد افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
جنوری کے اوائل میں ہی وائرس کے بارے میں معلوم ہونے کے باوجود عوام سے معلومات چھپانے پر صوبہ ہوبے کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ ہوبے میں ہی ہوئی ہیں۔