غیر حتمی نتائج کے مطابق بی جے پی نئی دہلی انتخابات ہار گئی
- منگل 11 / فروری / 2020
- 6020
بھارت میں نئی دہلی کے ریاستی انتخابات میں سرکاری مگر غیر حتمی نتائج کے مطابق حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ ریاستی انتخابات کی 70 نشستوں پر ووٹنگ 8 جنوری کو ہوئی تھی اور ووٹوں کی گنتی کا عمل آج مکمل ہوا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے غیر حتمی نتائج کے مطابق نئی دہلی کے ریاستی انتخابات میں اے اے پی کو 46 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ 16 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ بی جے پی کو صرف 5 نشستوں پر کامیابی ملی اور 2 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے باقاعدہ حتمی نتائج کا اعلان ہونا باقی ہے۔ متوقع جیت کے پیش نظر نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اور اے اے پی کے رہنما اروند کیجروال نے نئی دہلی کے ریاستی انتخابات میں کامیابی کو نئی سیاست کا آغاز قرار دیا ہے۔
انہوں نے کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا کہ میں نئی دہلی کے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے کو ایک مرتبہ پھر کامیاب بنایا۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما نے کہا کہ آج نئی دہلی نے بھارت کی تاریخ میں نئی سیاست کی بنیاد رکھ دی۔ یہ کارکردگی کی سیاست ہے۔
خیال رہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کی حمایت کرنے والے اپوزیشن کے اراکین پر سخت تنقید کی تھی۔ پھر بھی وہ 2015 سے دہلی میں حکومت کرنے والے کیجروال کی جماعت کو شکست دینے میں ناکام رہے۔
عام آدمی پارٹی نے 2015 میں دہلی اسمبلی کی 70 میں 67 نشستوں میں کامیابی حاصل کی تھی جو ایک ریکارڈ ہے اور مہم کے دوران کیجروال نے بجلی، پانی اور صحت سمیت عوامی مسائل کو موضوع بنایا۔ بی جے پی کا دعویٰ تھا کہ دہلی کا انتخاب متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والی مسلمان خواتین کے خلاف ریفرنڈم ثابت ہوگا جہاں خواتین شاہین باغ میں 15 دسمبر سے اس قانون کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔
بھارت کی حکمران جماعت نے مہم میں ووٹرز سے کہا تھا کہ اگر وہ شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو بی جے پی کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں۔ قبل ازیں بی جے پی کو مہاراشٹر میں حال ہی میں ریاستی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب دہلی میں شکست کے بعد تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سے بی جے پی کے حوالے سے عوامی رائے کا اندازہ لگانا آسان ہے۔
خواتین کے مظاہرے کے مقام کے قریب قائم ایک فوڈ کمپنی کے سینئر ایگزیکٹو معروف احمد کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے پاس شاہین باغ اور پاکستان، صرف دو ایجنڈے تھے، اس کے علاوہ ان کے پاس بات کرنے کو کچھ نہیں ہے۔