امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں ماہ امن معاہدے کا امکان
- بدھ 12 / فروری / 2020
- 4770
افغانستان میں تشدد میں کمی آنے پر رواں ماہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کا امکان ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے افغانستان کے حکومتی اور مغربی ملک کے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر افغان طالبان تشدد کی راہ ترک کر دیں تو فریقین کے درمیان رواں ماہ کے اختتام پر ہی امن معاہدہ ہو سکتا ہے۔
سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ امن معاہدے کے تحت افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کا معاملہ بھی طے ہو سکتا ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اُنہیں قطر میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں 'اہم پیش رفت' سے آگاہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں اُس وقت سے تعطل تھا جب سے امریکہ کی جانب سے زور دیا جا رہا تھا کہ طالبان افغانستان میں عسکری کارروائیاں ختم اور تشدد میں کمی لائیں۔
البتہ طالبان کی جانب سے اس پر مثبت ردِعمل سامنے نہیں آ رہا تھا۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں پُرتشدد کارروائیوں میں کمی آنے اور فریقین کے درمیان امن معاہدے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں 13 ہزار کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں۔ 2001 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔
اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کے نمائندے جلیل اختر کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغان قیادت کو امریکہ اور طالبان میں جاری مذاکرات میں ہونے والی 'پیش رفت' سے آگاہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے اس حوالے سے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو الگ الگ فون کیا اور انہیں طالبان سے ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔