حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے 2 مقدمات میں 11 سال قید

  • بدھ 12 / فروری / 2020
  • 9130

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے دو مقدمات میں 11 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے حافظ سعید کو 2 مقدمات میں مجموعی طور پر 11 سال قید کی سزا سنائی اور 30 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت سزا سنائی گئی، جس میں ساڑھے پانچ، ساڑھے پانچ سال قید اور 15، 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔  انہیں کالعدم تنظیم کی رکنیت، معاونت اور اس سے ملاقاتوں کے جرم میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ 11-ایف(2) اور 11-این(جس میں 11-ایچ سے 11-کے تک قابل سزا جرم ہیں)۔

دفعہ 11ایچ کا تعلق دہشت گردی کی غرض سے چندہ اکٹھا کرنے سے ہے۔ 11-آئی کا تعلق دہشت گردی کے لیے رقم یا دیگر وسائل کے استعمال سے ہے۔ 11-جے کا تعلق دہشت گردی کے لیے رقم کی دستیابی یقینی بنانے سے جبکہ 11کے منی لانڈرنگ کے حوالے سے ہے۔ جس وقت جج نے سزا سنائی اس وقت جماعت الدعوۃ کے سربراہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

ان کے وکیل عمران گِل نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ کالعدم دہشت گرد تنظیم کا حصہ اور غیرقانونی جائیداد رکھنے کے جرم کے مرتکب قرار دیے گئے۔ پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حافظ سعید اور ان کے ایک اور قریبی ساتھی کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے جرم میں دو مقدمات میں سزا ہوئی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے آج  دونوں مقدمات کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ تاحکم ثانی حافظ سعید کو تحویل میں رکھا جائے۔ اس سے قبل عدالت نے 6 فروری کو دونوں مقدمات میں فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

حافظ سعید کے خلاف یہ مقدمات پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے لاہور اور گوجرانوالہ میں درج کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزام میں جولائی 2019 میں جماعت الدعوۃ کے صف اول کے 13 رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی نے ان تنظیموں پر اپریل میں پابندی عائد کردی تھی۔

گزشتہ سال فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ جیسے اقدامات کے خلاف کارروائی کرے۔ ملک کے مالیاتی نظام کو لاحق خطرے کے بعد پوری حکومتی مشینری یکدم حرکت میں آ گئی تھی تاکہ اس انتباہ کے دو ماہ کے اندر اندر قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔

پاکستان اس وقت ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر موجود ہے اور اسے کارکردگی بہتر دکھانے کے لیے فروری تک کا وقت دیا گیا تھا۔