آزاد خارجہ پالیسی کا بھاری پتھر
- تحریر
- ہفتہ 15 / فروری / 2020
- 4510
کوئی اور کہتا تو یہ کتابی سی بات کہلاتی کہ آزاد خارجہ پالیسی کے لئے ایک مظبوط معیشت ضروری ہے۔ اب جبکہ یہی بات وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے مخصوص پیرائے میں کہی تو اس حکیمانہ انکشاف پر پریس میں خوب ہیڈ لائینز بنیں۔
پاکستان اس معیار پر کہاں کھڑا ہے؟ وزیر ِ خارجہ کو خوب معلوم ہے کہ ملک ایک بار پھر معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہے۔ اسی لئے تو انہوں نے جلدی سے اپنی حکومت کی صفائی بھی اسی سانس میں دے ڈالی، ہم اس وقت مشکل اقتصادی حالات سے دوچار ہیں، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ معاشی استحکام ممکن بنا سکے۔ بعض حقائق دو جمع دو کی طرح سادہ اور واضح ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں اکثر ایسے سادہ حقائق بھی باہمی سیاست اور روایتی منافقت کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کسی ملک کی آزاد خارجہ پالیسی تو کیا اس ملک کی حقیقی آزادی اور دفاع بھی تبھی ممکن ہے اگر اس کی معیشت بیساکھیوں کے سہارے کھڑی نہ ہو۔ دور کیا جانا، اس وقت آئی ایم ایف کا مشن دوسرے سہ ماہی جائزے کے لئے اسلام آباد میں ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو بقول ان کے انہیں ورثے میں ایسے سنگین اقتصادی حالات ملے کہ انہیں دوست ممالک کی بھر پور امداد کے بعد بھی مجبوراٌ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ نئے قرض پروگرام کے لئے آغاز سے قبل ہی بجلی و گیس کے قیمتیں بڑھانے، شرح سود میں اضافہ، روپے کی قدر کو کم کرنے، سبسیڈیز میں کمی اور ٹیکس ریونیو کا ناقابل یقین حد تک بڑا ٹارگٹ طے کرنا پڑا۔ اگر اقتصادی حالات بہت سنگین نہ ہوتے اور دیوالئے کا خطرہ سر پر نہ منڈلا رہا ہوتا تو ان اقدامات کی یوں نوبت نہ آتی۔
یہ اقتصادی اقدامات اب گلے کا ہار بنے ہوئے ہیں۔ جب سے آئی ایم ایف کا جائزہ مشن اسلام آباد میں ہے اخبارات میں ایک کے بعد ایک ایسی سرخیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جن سے ہماری معاشی آزادی کا رہا سہا بھرم بھی کھل رہا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے ٹیکس ریونیو ٹارگٹ کم کرنے کی درخواست کر دی، حکومت قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھانا ممکن نہیں کہ عوامی بے چینی پہلے ہی پریشان کن حد تک بڑھ چکی ہے، منی بجٹ نہیں آئے گا تاہم نئے بجٹ میں اڑھائی سو ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز لگانے اور سبسیڈیز میں مزید کمی پر حکومت نے اتفاق کر لیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ میر تقی میر یاد آئے:
نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں تو سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
خارجہ پالیسی میں دنیا کے ممالک کس طرح اپنے معاشی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں اس کا ایک مزید واضح اندازہ گزشتہ سات ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر کی المناک صورتحال پر ہوا۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت نے اپنے مذموم سیاسی فلسفے اور وعدے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اگست میں کشمیر کی آئینی حیثیت میں دیدہ دلیری سے تبدیلی کی۔ اس کے بعد کشمیر پر ببانگِ دہل دنیا کی حالیہ تاریخ کا بد ترین لاک ڈاؤن کیا۔ گرفتاریاں ہوئیں، عقوبت خانے بھر گئے، مظاہروں پر پابندی ہے، کاروبار اور اسکول بند ہیں، انٹرنیٹ بند ہے، بیرونی دنیا سے آمدورفت پر پابندی ہے۔ بھارت کے اپنے لیڈرز کو ائیر پورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔ عالمی مبصرین کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ سب کچھ اس دور میں ہو رہا ہے جب دنیا میں ایک خبر پل بھر میں لائیو ہو جاتی ہے۔ مگر دنیا کا اس بے رحم اور سنگدل لاک ڈاؤ ن پر اب تک کا ردِ عمل کیا ہے؟
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو کہنا پڑا کہ دنیا بھارت سے وابستہ اپنے مفادات کی خاطر کشمیر پر اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور پاکستان کی آواز میں آواز ملانے سے کترا رہی ہے۔ یہی حقیقت رواں ہفتے ایک تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیان کی۔ پاکستان کے عزیز ترین دوست ممالک نے بھی کشمیر کے مسئلے پر خاموشی اپنائے رکھی۔ سعودی عرب اور یو اے ای نے بھی واضح پوزیشن لینے سے گریز کیا۔
یو این جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ملائیشیا اور ترکی نے کشمیر کے مسئلے پر واشگاف انداز میں بات کی۔ بھارت نے روایتی سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے ملائیشیا کو اس موقف پر معاشی سزا دینے کا واضح اعلان کرتے ہوئے وہاں سے پام آئل کی درآمد کم کرنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ ملائیشیا میں کل آبادی کا آٹھ فی صد سے زائد ہندو آبادی بستی ہے۔ امریکہ، یورپ، جاپان سمیت سب ممالک نے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیلی کرنے اور بعد ازاں لاک ڈاؤن اور جاری جو رو جبر پر چپ سادھنے کو ہی ترجیح دی۔
دنیا میں جاری تعصب اور اسلام کے صحیح تشخص کو اجاگر کرنے کے لئے ملائیشیا میں کانفرنس منعقد کرنے کے فیصلے میں پاکستان شامل تھا بلکہ بنیادی محرک تھا لیکن پھر کیا ہوا؟ سب نے دیکھا کہ کس طرح سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی عرب ایران کی وہاں موجودگی کی وجہ سے ناراض ہوا تو پاکستان کو عین وقت پر کانفرنس سے نہ صرف علیحدگی اختیا ر کرنی پڑی بلکہ سعودی عرب اور یو اے ای جا کر اپنی پوزیشن واضح کرنی پڑی۔ اس وقت سننے کو ملا کہ پاکستان کی سفارتی آسودگی کی خاطر او آئی سی کا ایک خصوصی اجلاس بلایا جا سکتا ہے جس میں کشمیر پر بحث ہو گی۔ مگر بعد ازاں یہ امید بھی ریت پر لکھی ہوئی تحریرثابت ہوئی۔ سربراہ کانفرنس تو کجا بار بار درخواست کے باوجود وزرائے خارجہ لیول کے اجلاس سے بھی پہلو تہی کی گئی۔ ایجنڈے پر کشمیر کی بابت تجویز کیا گیا کہ کشمیر اور فلسطین کو ایک ایجنڈے کے طور پر زیرِ بحث لا سکتے ہیں، صرف کشمیر کو نہیں!
یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو ہمارے سامنے حالیہ چند ہفتوں میں رونما ہوئے۔ ایک ایک واقعہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ دنیا کے سفارتی دھندے انسانی حقوق اور خواہ مخواہ کی دوستیوں پر استوار نہیں ہیں بلکہ مفادات کی دھاتی ڈور سے بندھے ہیں۔ یہ حقیقت کل بھی عیاں تھی اور آج بھی اظہرمن الشمس ہے لیکن ہم نے من حیث القوم دنیا میں جینے کے قرینے نہ سیکھنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ ملک کے سیاسی اور معاشی نظام میں کرپشن، بد انتظامی اور غلط ترجیحات کے تسلسل نے ملک کو یہاں تک پہنچا دیا ہے۔ پاکستان کل ملا کر تئیس بار آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔ سیاسی موقع پرستی اور تعصب کا یہ عالم ہے کہ پارلیمنٹ میں معیشت سمیت کوئی بھی بحث گھوم پھر کر ذاتیات اور سیاسی دشنام طرازی کے تماشے پر منتج ہوتی ہے۔
ملک کے اعلیٰ ترین ادارے میں اس غیر سنجیدہ رویے کی موجودگی میں کسی سنجیدہ غوروفکر اور دور رس اقدامات کی کوئی کیا توقع رکھ سکتا ہے۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی حد تک میثاقِ معیشت کی آفر کر دی گئی لیکن ایک دوسرے کو دیکھنے کے روادار نہ ہونے والے بھلا دور رس اقدامات کے لئے سیاسی مفادات، تعصبات اور انا کی گٹھڑیاں کہیں دورپھینکنے پر تیا ر ہوں گے؟ جنوبی ایشیا اور دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں لگ بھگ پانچ فیصد سالانہ سے زائد نمو پا رہی ہیں اور ہم دو اڑھائی فیصد کی دلدل میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ایسے میں بھی ہم نوشتہ دیوار نہ پڑھ پائیں تو کوئی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے، ہم خود ہی اس کام کے لئے کافی ہیں!