ترکی ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے: بھارت

  • ہفتہ 15 / فروری / 2020
  • 3940

بھارت نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان دے کر بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔

بھارت کے وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ترک صدر کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت جموں و کشمیر سے متعلق تمام حوالہ جات کو مسترد کرتا ہے اور وہ بھارت کا اٹوٹ اور لازمی حصہ ہے۔

رویش کمار نے مزید کہا کہ ہم ترک قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور حقائق کی صحیح تفہیم پیدا کریں۔ جس میں پاکستان سے بھارت اور خطے کو دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والے سنگین خطرات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سو سال پہلے ترکی میں جو ہوا تھا اسے آج مقبوضہ کشمیر میں دہرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ترکی بھارت مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ رجب طیب ادوان نے کہا تھا کہ آج مسئلہ کشمیر ہمارے اتنا ہی قریب ہے جتنا پاکستانیوں کے ہے۔

ترک صدر نے کشمیریوں کے لیے ترکی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر تنازع یا جبر کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کا حل تمام فریقوں کے مفادات کا باعث بنے گا۔  انہوں نے کہا تھا کہ ترکی کشمیر کے حل میں انصاف، امن اور بات چیت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے دو وفاقی اکائیوں میں تبدیل کردیا تھا اور کہا تھا کہ اس اقدام سے خطے میں ترقی ہوگی۔ بھارتی قابض فوج بدستور انسانی حقوق کی پامالی میں مصروف ہے جہاں نوجوانوں اور بزرگوں سمیت خواتین و بچوں پر بھی تشدد جاری ہے اور انہیں گھروں پر محصور کردیا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں اور طلبہ مسلسل 99ویں روز بھی اسکولوں، کالجوں اور جامعات نہیں جاسکیں جبکہ ان کے امتحانات کی تیاریوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔