لاہورمیں شریف خاندان کے دفاتر پر نیب کے چھاپے
- ہفتہ 15 / فروری / 2020
- 4730
قومی احتساب بیورو کے حکام نے منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس سے متعلق مقدمات کے شواہد کی تلاش کے لیے شریف خاندان کے دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عامر رضا بیتو نے نیب کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 55-کے اور 91-ایف میں واقع دفاتر سمیت مقدمے میں نامزد ملزمان کی زیرِ ملکیت کمپنیوں کے دیگر دفاتر کی تلاشی کی اجازت دی تھی۔
وارنٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ احکامات ان دفاتر سے دستاویزات کے حصول کے لیے جاری کیے گئے ہیں جو مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اہم ہیں۔ نیب ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ عہدیداران نے چھاپوں کے دوران کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس قبضے میں لے لیے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ شریف گروپ آف انڈسٹریز کے چیف فنانشل افسر کے دفتر سے اہم دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔
نیب حکام نے کہا کہ مبینہ منی لانڈرنگ میں ملوث بے نامی کمپنیاں 55 کے ماڈل ٹاؤن میں واقع دفتر سے چلائی جارہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو شریف خاندان کی بے نامی کمپنیوں یونی ٹاس، وقار ٹریڈنگ اور دیگر سے متعلق ریکارڈ مطلوب ہے۔
اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں چھاپوں کی تصدیق کی اور کہا کہ چھاپے ہفتہ کو دوپہر ساڑھے 12 بجے مارے گئے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے کی حکومت کی جانب سے سیاسی اور اقتصادی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے چھاپے مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ چھاپوں کے دوران کیا ملا۔
مریم اورنگزیب نے سوال کیا کہ حکومت، ملک میں گندم اور چینی کے بحران کے ذمہ دار افراد کو بے نقاب کیوں نہیں کررہی۔