فوج سے متعلق بیان پر اپوزیشن کی وزیر اعظم پر تنقید

  • اتوار 16 / فروری / 2020
  • 3980

اپوزیشن جماعتوں نے فوج سے متعلق وزیراعظم کے بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دے کر سخت تنقید کی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی  نے پاکستان کے فوجی اور قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق غیرذمہ دارانہ بیانات پر وزیراعظم کے مواخذے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم کا بیان کہ فوج ان کے پیچھے کھڑی ہے، یہ قومی ادارے کو سیاست میں لانے کے مترادف ہے۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج جانتی ہے کہ وہ پیسہ نہیں بنارہے اور نہ ہی کرپٹ ہیں کیونکہ وہ دن رات سخت محنت کررہے ہیں لہذا وہ فوج سے خوفزدہ نہیں۔

وزیراعظم نے بات اس سوال کے جواب میں کہی تھی جو ان سے اسٹیبلشمنٹ سے اچھے تعلقات نہ ہونے کے حوالے سے پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی اور کہا تھا کہ خفیہ ادارے جانتے ہیں کون کیا کررہا ہے اور اسی لیے جو کرپشن میں ملوث ہیں وہ خوفزدہ ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا کہ ملک تدبر سے چلائے جاتے ہیں بچگانہ انداز سے نہیں۔ طاقت کے نشے میں ڈوبے عمران خان اپنے ہوش کھوچکے ہیں۔ ان کا علاج صرف پارلیمانی مواخذہ ہے۔ نیئر بخاری نے کہا کہ ایسے بیانات سے فوج کو متنازع بنانا ملک میں افراتفری پیدا کرسکتا ہے جو وزیراعظم کے اعلیٰ منصب پر موجود شخص کو زیب نہیں دیتا۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم عمران خان کے خلاف ہیلی کاپٹر، مالم جبہ، بلین ٹری منصوبہ اور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) میں کرپشن ریفرنسز کے نتائج کا انتظار کررہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نے ملک میں آٹے اور چینی کے حالیہ بحران کے ذمہ داران کو کلین چِٹ دینے پر وزیراعظم پر تنقید کی۔

بلوچستان میں جعفرآباد ڈسٹرکٹ بار کونسل سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے فوج کو شرمندہ کی کوشش کی ہے۔

منصورہ سےجاری ہونے والے بیان کے مطابق سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جانا چاہیے تھا کہ فوج نہیں بلکہ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔  انہوں نےکہا کہ حکمران  غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے۔ وہ قابل نہیں اور حکومت چلانا نہیں جانتے۔