دہلی کا انتخابی معرکہ: کیا ہم کچھ سیکھ سکیں گے؟

دہلی کے انتخابی معرکہ میں بی جے پی اور نریندر مودی یا ہندوتوا پر مبنی سیاست کی ناکامی غیر متوقع نہیں تھی۔ کیونکہ  سیاسی پنڈت یہ پیش گوئی کرچکے تھے کہ دہلی کے انتخابی معرکہ میں عام آدمی پارٹی کو شکست دینا آسان نہیں ہوگا۔

 بھارت کے موجودہ سیاسی ماحول میں عام آدمی پارٹی کی جیت اور بی جے پی سمیت کانگریس کی بدترین شکست کافی اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ نریندر مودی او ران کے حامیوں کی ہندوتوا پر مبنی سیاست کے ماحول میں عام آدمی کی جیت نے مودی سیاست کی یلغار کو ایک بڑا سیاسی جھٹکا دیا ہے۔مودی او ران کے سخت گیر حامیوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی موجودہ سیاسی طاقت میں دہلی پر اپنا سیاسی قبضہ  حاصل کرلیں گے، مگر عملی طورپر دہلی کے انتخابی نتائج نے مودی کو نہ صر ف سخت مایوس کیا ہے بلکہ ان کی مستقبل کے تناظر میں سیاسی مشکلات بڑھادی ہیں۔

حالیہ دہلی کے انتخابی معرکہ میں موجودہ کل ستر نشستوں میں سے 62نشستوں پر عام آدمی پارٹی او رکیچریوال نے  حاصل کیں جبکہ ان کے مقابلے میں بی جے پی کو کل آٹھ اور کانگریس کو کوئی بھی نشست حاصل نہ ہوسکی۔ دہلی میں کئی برسوں سے عام آدمی پارٹی او رکیچیروال کی سیاسی حکمرانی کا  جادو چل رہا ہے۔ اس نے بھار ت میں موجود دونوں بڑی سیاسی جماعتوں بی جے پی او رکانگریس سمیت علاقائی جماعتوں کو ایک بڑی سیاسی تنہائی میں ڈال دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سیاسی مخالفین تمام تر سیاسی ہتکھنڈوں یا سیاسی حکمت عملی  کے باوجود ابھی تک عام آدمی پارٹی کے سحر سے دہلی کے لوگوں کو باہر نہیں نکال سکے۔اس کی بڑی وجہ دہلی کی سیاست میں عام آدمی پارٹی کا روائتی سیاست کے مقابلے میں سیاسی او رجمہوری فریم ورک میں رہتے ہوئے حکمرانی کے نظام میں ایسی جاندار تبدیلیاں ہیں جو عام لوگوں کو نہ صرف محسوس ہوتی ہیں بلکہ واضح او رشفاف انداز میں  نظر بھی آتی ہیں۔

عام آدمی پارٹی او رکیچریوا ل نے ایک دہائی قبل بھارت کی سیاست او ربالخصوص دہلی میں اپنی سیاست کا آغاز کرتے ہوئے کرپشن، بدعنوانی، نااہلی، بری طرز حکمرانی اور عام آدمی کے مفادات سے جڑی سیاست کو بنیاد بناکر پہلے سے موجود روائتی سیاست کو چیلنج کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کو اپنی سیاسی حیثیت منوانے کے لیے بھار ت کی بڑی جماعتوں او ربڑی سیاسی قد آور شخصیات سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بعض مواقع پر ان کے سیاسی مخالفین یعنی روائتی سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں نے نہ صرف ان کی بدترین تضحیک کی بلکہ ان کو  ہراس،تشد داو رمذاق کا نشانہ بنایا گیا۔لیکن  عام آدمی پارٹی او رکیچریوال کو داد دینی ہوگی کہ محدود سیاسی او رمالی وسائل کے باوجود انہوں نے بھارت کی روائتی سیاست کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دہلی میں موجود لوگوں نے نہ صرف ان کی سیاسی پزیرائی کی بلکہ ان کو اقتدار کی سیاست میں بھی لاکھڑا کردیا۔

بہت سے سیاسی پنڈت  عام آدمی پارٹی کی  جیت کو ہندوتوا کی سیاست کے مقابلے میں بھار ت کی سیکولر سیاست کی جیت سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول دہلی کے انتخابی معرکہ میں ووٹروں نے ہندوتوا کی سیاست کو مسترد کرکے سیکولر سیاست کو اہمیت دی ہے۔ لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیکولر سیاست کی بڑی پرچارک جماعت کانگریس تھی او راس کے سامنے عام آدمی پارٹی کی سیکولر سیاست کچھ نہ تھی۔ اس لیے اگر دہلی کے لوگوں نے کانگریس کی سیکولر سیاست کو مسترد کیا ہے تو سمجھنا ہوگا کہ ووٹر کے سامنے سیکولر سیاست سے زیادہ عام آدمی پارٹی کی دہلی میں طرز حکمرانی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ممکن ہے کہ حالیہ دنوں میں شہریت بل کی معاملے میں مودی کی سخت گیر پالیسی یا ہندوتوا کی سیاست کا بھی کچھ اثر ہؤا ہو، مگر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عام آدمی پارٹی کی جیت کی  بنیاد دہلی کا طرز حکمرانی ہے جہاں عام او رکمزور طبقات عام آدمی پارٹی کی حکمرانی سے بہت زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔ عام او رکمزور طبقہ سمجھتا ہے کہ عام آدمی پارٹی نے اقتدار میں آکر ان کی سیاسی، سماجی او رمعاشی حیثیت کو نہ صرف بدلا بلکہ بہتر بنایا ہے۔

عام آدمی پارٹی او راس کے سربراہ کوئی روائتی سیاست دان نہیں بلکہ یہ لوگ بنیادی طور پر بھارت میں  روائتی سیاست کو توڑنے کے لیے حادثاتی طور پر سیاست میں آئے۔ مڈل کلاس او رلوئر مڈل کلاس سے جڑی عام آدمی پارٹی کی ساری قیادت کی سیاست کا بنیادی مرکز عام اورمحروم طبقہ تھا اور وہ اس طبقہ میں خوشحالی لاکر روائتی سیاست او ربدعنوانی پر مبنی سیاست کو چیلنج کرنا چاہتے تھے۔ حالا ت وواقعات نے ثابت کیا کہ اگر مڈل کلاس سے لوگ ایک واضح ایجنڈے اور اپنی مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے ساتھ کچھ کرنے کا ٹھان لیں تو بہت کچھ بدلا جاسکتا ہے۔یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عام آدمی پارٹی کے سیاسی مخالفین میں ان کے سیاسی مخالفین محض سیاست تک محدود نہیں تھے بلکہ بڑے بڑے سرمایہ دار او رمیڈیا سے جڑے لوگ بھی مودی کی سیاست کی حمایت میں پیش پیش تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور دہلی کی سیاست رہا ہے۔ اگرچہ انہوں نے عام انتخابات میں کچھ آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر وہ نتائج نہ مل سکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی سیاست کا مرکز دہلی ہے اور وہ دہلی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔دہلی میں انہوں نے عام آدمی کو بجلی، گیس، مکا ن، سماجی و سیاسی انصاف، تعلیم اور صحت کے معاملات میں جو بڑا ریلیف دیا وہی ان کی بڑی کامیابی کی وجہ بنا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ کیچریوال کے بقول انہوں نے عام آدمی کو شعور دیا ہے کہ اگر سب مل کر دہلی میں ٹیکس کے نظام کو بہتر او رشفاف بنادیں تو وہ اس کی مدد سے کمزور لوگوں کوزیادہ سے زیادہ ریلیف دے سکتے ہیں۔

جمہوریت میں انقلاب کی گنجائش کم ہوتی ہے اور یہ عمل اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھتاہے۔ عام آدمی پارٹی نے گزشتہ کئی برسوں سے دہلی کی سیاست میں جو سیاسی، سماجی، انتظامی او رمعاشی اصلاحات کیں اور اسی کو بنیاد بناکر وہ نتائج حاصل کیے جو وہ انتخابی وعدوں میں کرتے تھے۔ ان کی حکمرانی کا نظام بہت سادہ اور کم خرچ تھا۔ عام آدمی پارٹی نے سادہ حکمرانی کی مثال قائم کرکے ثابت کیا کہ ہماری اصل ترجیحات اپنی حکمرانی میں عیاشی دکھانے کی بجائے عام آدمی کا مقدمہ لڑنے پر ہونی چاہئے۔مودی کی سیاست کے لیے یقینا عام آدمی پارٹی ایک سیاسی مشکل بن گئی ہے اور اس کو حالیہ شکست میں یہ احساس بڑھا ہوگا کہ وہ  مقبولیت کی سیاست سے نیچے کی طرف جارہے ہیں اور اس کی وجہ جہاں ان کا ہندوتوا پر مبنی سیاسی ایجنڈا ہے وہیں بری حکمرانی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

پاکستان میں جو جاری سیاست ہے اسے بھی دہلی کے انتخابی معرکہ سے بہت سیکھنا ہوگا۔ وفاقی یا صوبائی حکومتوں کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی اصل سیاست طاقت عام آدمی کے مفادات یا مسائل کے حل سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر عام آدمی پارٹی ایک صوبہ میں بیٹھ کر اپنی حکمرانی کی اعلی مثال قائم کرسکتی ہے تو ہماری صوبائی حکومتیں کیوں ایسا کام کرنے سے قاصر ہے۔وزیر اعظم عمران خان بھی عام او رکمزور طبقات کی سیاست کو بنیاد بنا کر بہت کچھ تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول ان کا اصل مقابلہ یہاں کے مافیا سے ہے او ران سے مقابلہ کرنے میں ان کو سیاسی، انتظامی اور قانونی مشکلات کا سامناہے۔وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ کچھ اسی طرح کے مافیا کا مقابلہ دہلی میں عام آدمی پارٹی اور کیچریوال کو بھی  تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کو یقینی طو رپر دہلی کی سیاست او ر عام آدمی پارٹی کی سیاسی حکمت عملی سے ضرور سبق سیکھنا چاہیے۔  عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل نتیش کمار کے بڑے حامی تھے اور وہ کہا کرتے تھے کہ جب ان کو اقتدار ملا تو وہ اپنی سیاست میں نتیش کمہار کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔

اصل میں  سیاسی تبدیلی اور حقیقی معنوں میں عام آدمی کی حالت کو بدلنے کے لیے ہمیں اپنی حکمرانی کے نظام میں  اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ کام عام آدمی پارٹی نے دہلی میں کرکے دکھایا ہے اور اب وقت ہے کہ تبدیلی سے جڑ ے لوگ دہلی کی سیاست سے سبق حاصل کرکے وہ سب کچھ یہاں کرنے کی کوشش کریں جو عام آدمی پارٹی نے دہلی میں کرکے دکھایا ہے۔