آرٹیکل 6 کے غداروں کا زائچہ
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 16 / فروری / 2020
- 10580
اِن دنوں پاکستانی سیاست میں آئین کے کی شق نمبر6 کی آڑ میں حکمران کیمپ اور حزبِ اختلاف کے درمیان ایک دوسرے کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دینے کا مکروہ کھیل جاری ہے ۔ سنگین غداری کی اس شق کا جوحشر جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمے میں ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ، ہم دیکھ رہے ہیں اور نہ جانے کب تک دیکھتے رہیں گے۔ کیوں کہ ہم من حیث القوم ایک ذمہ دار اور سنجیدہ سیاسی قوت اور جمہوری معاشرہ نہیں ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے سیاسی اداکاروں اور قومی اداروں کے سربراہوں نے ہمیشہ آئین اور قانون کو یا تو اپنے ذاتی یا گروہی مفاد کے لیے استعمال کیا ہے یا اس سے غداری کی ہے اور پاکستان کے اُن اداروں نے جن کا کام آئین کے نفاذ کی ضمانت دینا تھی ، ہمیشہ قانون سے چشم پوشی کی قیمت وصول کر کے آرٹیکل 6 کے تحت صریح اور سنگین غداری کی ہے ، جس نے آئین کو پاکستان کے حکمران اداروں اور سیاسی اداکاروں کا کاغذی کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے ۔
آرٹیکل 6 کے مطابق پاکستان کے آئین کو جزوی یا کلی طور پر بالجبر منسوخ کرنا یا اس سے چشم پوشی کرنا سنگین غداری کی ذیل میں آتا ہے مگر جن اداروں کے ہاتھ میں طاقت ہے ، خواو وہ عسکری ادارے ہوں ، عدلیہ ہو ، انتظامیہ ہو یا مقننہ سب نے اپنی اپنی حیثیت میں قانون اور آئین کی توہین کی ہے اور آئین کے بارے میں سب کو ضیا الحق کا وہ بیان نہیں بھولا ہو گا جس نے کہا تھا کہ کیا ہے یہ آئین؟ کاغذ کے یہ پرزے جنہیں جب چاہوں میں پرزے پرزے کر دوں اور ان کی جگہ چند نئے کاغذ لکھ لوں ۔ یہ بھی آئین سے سنگین غداری کا بیان تھا مگر کس میں ہمت تھی کہ جنرل ضیا کے آگے چوں بھی کر سکے مگر مشیت کا ضیا کو سزا دینے کا فیصل اٹل تھا چنانچہ اُسے بہالپور میں ایک فضائی حادثے میں زندہ جلا کر خاکستر کر دیا گیا ۔ یہ ہے وہ قیامت جو جب ٹوٹتی ہے تو کسی کا لحاظ نہیں کرتی ۔ پاکستان کے طاقتور ترین فوجی جرنیلوں کی بھی پرواہ نہیں کرتی۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ عام آدمی کے حقوق غصب کر کے وہ اپنی من مانی کر کے الوں تللوں میں عیاشی کرتے ہیں ، اُنہیں اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے مگر وہ نہیں کرتے ۔حالانکہ وہ آئین کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کر کے سنگین غداری کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں ۔
اب آئین شکنی کی ایک پرانی لاش میڈیا میں گھسیٹی جا رہی ہے ۔ یہ کہانی اس امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیورس کی آپ بیتی (دی کانٹریکٹر) میں بیان کی گئی ہے کہ اس جاسوس کو قتل کے الزام سے دیت یعنی خون بہا کے عوض بری کروانے کے لیے اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے سنگین غداری کا ارتکاب کیا ۔ مقتولین کے لواحقین خون بہا کی رقم قبول کرنے پر تیار نہیں تھے مگر جنرل پاشا نے بندوق کی نوک پر اُن کو خاموش رہنے کو کہا ،اُنہیں محبوس رکھا اور دیت کی رقم آئی ایس آئی نے بذریعہ عدالت ادا کی اور پھر اُس کا بل امریکی حکومت کو بھجوادیا گیا ۔ اس طرح دو بے گناہ پاکستانی مقتولین کا خون بیچا گیا ۔ اس وقوعے پر آئین کے آرٹیکل 6 کے علمبردار خاموش کیوں رہے ؟ یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتی کیونکہ پاکستان کا آئین وہ ہاتھی ہے جس کے نمائشی دانت اور ہیں اور اطلاقی دانت اور ۔
پاکستان کا آئین ہر شہری کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق پاکستان کے تمام شہریوں کو آزادی اور زندگی کا تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ کسی فرد کو موت یا قید کی سزا صرف ملکی آئین کے مطابق ہی دی جا سکتی ہے ۔ چنانچہ ریمنڈ ڈیوس کو کسی بے گناہ پاکستانی کی جان لینے کا اختیار نہ تھا اور ایسے قاتل کو سزا سے بچانے کے لیے مقتولین کے لواحقین کو جبراً خون بہا لینے پر مجبور کرنا بھی آئین کی شق نمبر6 کی خلاف ورزی ہے ۔مگر جہاں قانون حکمران اداروں کے ہاتھ میں موم کی ناک کی طرح ہو وہاں کوئی آئین نہیں ہوتا بلکہ آئین اور قانون کے نام پر اداروں کی من مانی ہوتی ہے ، عوام نام کی بھینس کو لاٹھی والے ہانکتے رہتے ہیں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کی زبانی باتیں کرتے رہتے ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود کے اتنے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جو پیشہ ور دروغ گو بھی نہیں کر سکتے ۔ یہ بھی شق نمبر 6 کی صریح خلاف ورزی ہے مگر جو معاشرے آئین اور قانون کی پاسداری نہیں کرتے وہ محض اپنی خواہشِ نفس پر چلتے ہیں حالانکہ جدید معاشرے جو مذہب کو اپنا راستہ قرار دیتے ہیں تین طرح کے قوانین کو ایک ساتھ تسلیم کر کے اُن پر چلتے ہیں اور وہ تین طرح کے قوانین ہیں:
ا۔ اللہ کے وضع کردہ قوانین کی اطاعت
۲ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرعی قوانین کی اطاعت
۳ ۔ حاکم وقت ( مروجہ آئین اور قانونی ڈھانچے) کی اطاعت
ارسطو نے انسان کو سماجی جانور کہا تھا جو درا اصل قانون کے مطابق زندگی بسر کرنے والا جانور ہے ۔ قرآن کریم نے سبت والوں کے قصے میں سورہ ء بقر میں واضح کردیا ہے کہ جو لوگ قانون کی پابندی نہیں کرتے وہ انسانی منصب کھو بیٹھتے ہیں اور جو ملکی آئین کو ہی روز پاؤں تلے روندتے ہون ، انہین نہ جانے کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟