یورپ سے علیحدگی کے بعد برطانیہ کا نیا امیگریشن نظام

  • بدھ 19 / فروری / 2020
  • 17640

برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ یورپ سے علیحدگی کے بعد امیگریشن کا نیا نظام بنائے گا جس میں دنیا بھر سے اعلیٰ مہارت یافتہ افراد کو برطانیہ آنے کے لیے ترجیح دی جائے گی۔ یہ نظام پوائنٹس کی بنیاد پر افراد کا انتخاب کرے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق برطانیہ یہ نظام اس لیے بنا رہا ہے تا کہ یورپ سے کم معاوضے پر افراد پر انحصار ختم ہو سکے۔ برطانیہ میں 2016 میں ریفرنڈم میں ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ یورپ سے بڑی تعداد میں افراد برطانیہ روزگار کی تلاش میں آتے ہیں۔ حکومت نے مجموعی طور پر برطانیہ میں ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں کمی کی منصوبہ بندی کی ہے۔ برطانیہ کا نیا امیگریشن نظام مخصوص صلاحیتوں، تعلیم، تنخواہوں اور شعبوں پر پوائنٹس ملیں گے۔ صرف وہ افراد ویزا کے حصول میں کامیاب ہو سکیں گے جن کو مطلوبہ پوائنٹس ملیں گے۔

رپورٹس کے مطابق نیا نظام جنوری 2021 سے لاگو ہوگا جب کہ اس نظام میں یورپی باشندوں کو بھی دنیا کے باقی ممالک کے افراد کی طرح مساوی سمجھا جائے گا۔ حکومتی دستاویزات میں واضح ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ امیگریشن نظام پر مکمل طور پر برطانوی حکام کا کنٹرول ہوگا۔ حکام کو یہ اختیار حاصل ہو سکے گا کہ کیسے امیگریشن نظام چلایا جائے۔ نئے نظام میں یورپ کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ چھ ماہ کے لیے برطانیہ وزٹ ویزا پر آ سکیں گے۔

حکام کے مطابق وہ مایگریشن ایڈوائزری کمیٹی (ایم اے سی) کی تجاویز پر مکمل عمل کریں گے۔ حکومت کے ماتحت یہ آزاد مشاورتی کمیٹی کی تجویز کے مطابق کسی خاص مہارت کے حامل افراد کی سالانہ تنخواہ 25600 پاؤنڈز (یعنی 33330ڈالرز) ہونی چاہیے۔ کسی خاص مہارت کے حامل افراد یا کسی مخصوص شعبہ سے وابستہ لوگوں میں مقررہ معیار کے مطابق صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر مہارت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

نئی امیگریشن پالیسی کی دستاویزات کے مطابق حکومت کو معیشت کی بہتری کے لیے یورپ سے کم لاگت کے افراد کو رکھنے کے مقابلے میں ٹیکنالوجی اور گاڑیوں کی صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے مربوط اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایم اے سی کے اندازے کے مطابق حکومت کی تنخواہ اور صلاحیتوں کے حوالے سے منصوبہ بندی پر عمل درآمد سے 2004 کے بعد برطانیہ آنے والے یورپ کے 70 فی صد اکنامک ایریا سیٹیزنز کی شہریت کا حق ختم ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فی صد عوام نے علیحدگی کے حق میں رائے دی تھی۔