وزیراعظم کی سوشل میڈیا قواعد پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کی ہدایت
- بدھ 19 / فروری / 2020
- 4410
سوشل میڈیا کے حوالے سے متعارف کروائی گئی حالیہ پابندیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو ان قواعد کے نفاذ سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ تمام انٹرنیشنل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کمپنیاں پاکستان میں کام جاری رکھیں گی اور حکومت ان کے تحفظات دور کرے گی۔ اس بارے میں سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی شعیب صدیقی نے ڈان کو بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے قوانین کے نفاذ سے قبل تمام بین الاقوامی اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے گا۔
اجلاس میں شرکت کے بعد سیکریٹری انفارمیشن کا مزید کہنا تھا حکومت، انٹرنیشنل انٹرنیٹ کمپنیوں سے رابطے میں ہے اور جلد ان کے نمائندوں کو ایک اجلاس کے لیے بلایا جائے گا تاکہ انہیں نئے قوانین سے آگاہ کیا جاسکے اور پاکستان میں سوشل میڈیا ریگولیشن کے لیے ان کی تجاویز حاصل کی جاسکیں۔
دوسری جانب رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے حکومت سے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے متعارف کروائے گئے قواعد ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کی ریگولیشن ضروری ہے لیکن یہ سینسر شپ کی صورت میں نہیں کرنی چاہیے۔ آر ایس ایف نے ایک بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ کو گھٹنوں پر لانے کی کوششوں کے ساتھ حکومت نے نئے قواعد(سیٹیزن پروٹیکشن اگینسٹ آن لائن ہارم رولز، 2020) 28 جنوری کو ایک خفیہ میمو میں منظور کیے۔
آر ایس ایف ایشیا پیسیفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیئل بسٹارڈ کا کہنا تھا کہ ریگولیشن میں استعمال کردہ مبہم اور غیر واضح زبان حکومتی اقدامات کی صوابدیدی نوعیت کی گواہی دیتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم وفاقی حکام پر زور دیتے ہیں کہ ان قواعد کو ختم کیا جائے جو صحافیوں کے کام خصوصاً ان کے ذرائع کی رازداری کے حوالے سے بڑا خطرہ ہیں۔ سوشل میڈیا کی ریگولیشن ضروری ہے لیکن اسے سینسرشپ کے بھیس میں نہیں ہونا چاہیے۔
آر ایس ایف کا مزید کہنا تھا کہ یہ قواعد سوشل میڈیا کمپنیوں پر حکومتی کنٹرول کو بڑھانے کے لیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کمپنیوں کو پاکستان میں دفتر کھولنا پڑے گا اور مقررہ مدت کے اندر اگر کوئی مواد بلاک یا ہٹانے میں ناکام رہے تو 50 کروڑ روپے کا جرمانہ ہوگا۔
خیال رہے کہ 15 فروری کو انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجیز کی بڑی کمپنیوں مثلاً فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، ایمازون، ایئر بی این بی، ایپل، بکنگ ڈاٹ کام، ایکسپیڈیا گروپ، گریب، لنکڈ ان، لائن، راکوٹین اور یاہو (اوتھ) پر مشتمل صنعتی اتحاد ایشیا انٹرنیٹ کولیشن (اے آئی سی) نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط ارسال کیا تھا۔ خط میں انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے حکومت کے نئے قواعد سے پاکستان میں ڈیجیٹل کمپنیوں کا کام کرنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔
اے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے خط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قواعد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو بری طرح اپاہج کردیں گے۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور صحافتی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے بھی حکومت سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔