بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی تشویش

  • بدھ 19 / فروری / 2020
  • 4960

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے گئے شہریت ترمیمی ایکٹ سے مسلمانوں سمیت 20 لاکھ افراد کے بے وطن ہونے کے خدشے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک سے متعلق سوال پر انتونیو گوتریس نے کہا کہ اس حوالے سے ذاتی طور پر تشویش ہے۔ جب کبھی شہریت قوانین تبدیل کیے جاتے ہیں تو بے وطنی سے گریز اور دنیا کے ہر شہری کو کسی ملک کا شہری ہونے کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ڈان نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے تشدد، جنسی استحصال اور 7 سال تک کے بچوں کو قید کیے جانے سے متعلق بین الاقوامی میڈیا  ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور حال ہی میں نئی دہلی میں جاری کی گئی رپورٹس سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔ سوال کے جواب میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ ان رپورٹس کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔

اقوام متحدہ، مقبوضہ کشمیر جانے اور وہاں ہونے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطح کا انکوائری کمیشن تشکیل دینے میں ناکام ہونے سے متعلق سوال پر سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’ صرف اقوام متحدہ کی گورننگ باڈیز یا سلامتی کونسل یہ فیصلہ کرسکتی ہیں لیکن یہ رپورٹس قابل اعتبار، مفید اور انتہائی اہم ہیں‘۔ انتونیو گوتریس نے آگاہ کیا کہ اقوام متحدہ کی موجودہ ساخت اور اس کے صرف 5 مستقل رکن ممالک کو حاصل ویٹو پاور اقوام متحدہ کو اس کا مقصد پورا کرنے کی صلاحیت سے روک رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی بڑھتی ہوئی افادیت کو یقینی بنانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ریفارم لاکر ’مزید جمہوری اور مزید مؤثر بنانے‘ اور جس کثیر الجہتی دنیا کا نمائندہ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت سے تعلقات غیر واضح ہیں لہذا ہم تنازع کی صورتحال دیکھتے ہیں جس میں سبوتاژ کرنے والے جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ کیونکہ اس حوالے سے ترتیب بنانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ہم تضادات میں رہتے ہیں۔ ہمیں عالمی مسائل پر عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔ ہمیں پہلے سے زیادہ کثیر الجہتی گورننس کی ضرورت ہے۔ ہم انتشار کا شکار دنیا میں رہتے ہیں جہاں چیزوں کو آگے بڑھانا مشکل ہے۔ ہمیں اقوام متحدہ میں اصلاحات لاکر اس چیلنج سے نمٹنا ہے۔  اقوام متحدہ کی مبینہ غیر مؤثر کارکردگی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’وہ دنیا پر حکومت نہیں کرتے‘ اور یہ بہت ضروری ہے کہ ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کا احترام کریں۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا بھر کے عوام سیاسی ادارے کے کام سے خوش نہیں اور گلوبلائزیشن نے بہت سے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔  فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کے مؤقف کے سوال پر سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’ہمارا مؤقف تبدیل نہیں ہوا‘۔  دو ریاستی حل کے عزم پر قائم ہیں۔  انتونیو گوتریس نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ان ریاستوں کی سرحدوں کو 1967 کے بارڈرز پر مبنی ہونا چاہیے اور مغربی یروشلم کو اسرائیل جبکہ مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ یہ ہماری لائن ہے اور ہماری لائن تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ’بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے تحت‘ مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔ پاکستان میں مہاجروں کی آمد اور افغان امن عمل کی ناکامی کی صورت میں افغان مہاجرین کی واپسی میں تاخیر اور امریکی فوجیوں کے انخلا کی صورت میں پیدا ہونے والے طاقت کے خلا کے باعث افغانستان میں خانہ جنگی کے دوبارہ سر اٹھانے سے متعلق اقوام متحدہ کے ہنگامی منصوبے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ہمارا کوئی ہنگامی منصوبہ نہیں ہے‘۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن کی گنجائش موجود ہے اور پاکستان بہت مثبت کردار ادا کررہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ہر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے افغانستان سے تعاون اور جنگ زدہ ملک کی تعمیرِ نو کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔