افغانستان میں تشدد روکنے کا اعلان جلد ہوسکتا ہے

  • جمعرات 20 / فروری / 2020
  • 4930

امریکہ اور طالبان کے درمیان 2018 میں شروع ہونے والے امن مذاکرات کے نتیجے میں رواں ماہ کے آخر میں امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد بین الافغان امن مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو گا۔ تاہم تجزبہ کاروں کے خیال میں یہ ایک طویل اور پیچیدہ معاملہ ہو گا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم طالبان کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے تحت افغانستان میں فریقین پہلے پُرتشدد کارروائیاں روکنے کے حوالے سے ایک اعلامیہ جاری کریں گے اور پھر اس مہینے کے آخر تک امن معاہدے پر دستخط ہوں گے۔  سہیل شاہین نے ٹیلیفون پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اعلامیہ جلد جاری کر دیا جائے گا جس میں یہ تاریخ باقاعدہ تحریر کی جائے گی کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط کب کیے جائِیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے معاہدے پر دستخط یا معاہدے سے کچھ روز پہلے افغانستان میں پرامن ماحول قائم کیا جائے گا اور وہ اس پر ثابت قدم رہیں گے۔ اگرچہ افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا امکان ماضی میں کبھی بھی ممکن نہیں رہا ہے جتنا اب ہے۔ لیکن اس کا انحصار آئندہ ماہ شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات پر ہو گا جس کا باضابطہ طریقہ کار اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے بعد افغان تنازع کا حل ممکن ہو سکے گا۔

تاہم سینئر صحافی سمیع یوسف زئی وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگرچہ اس وقت امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالیہ پیش رفت افغان تنازع کے حل کی طرف پیش قدمی ہے لیکن امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا افغانستان کے مسئلے کا صرف ایک چوتھائی حل ہے جب کہ بقیہ 75 فی صد حل بین الافغان مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

سمیع یوسف زئی کے بقول امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشکل اور پیچیدہ مرحلہ اب بھی باقی ہے۔ یہ مرحلہ  افغان حکومت، طالبان اور دیگر افغان دھڑوں کے درمیان بات چیت کا ہوگا۔

ایک اور تجزیہ کار و ماہر افغان امور زاہد حسین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت میں شامل بعض حلقے کبھی بھی طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے حامی نہیں تھے۔ اُن کا رویہ منفی ہی رہے گا لیکن اس کے مقابلے میں طالبان متحد ہیں۔ زاہد حسین کے بقول، طالبان کی جانب سے اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ طے پانے کے بعد افغانستان میں وہ کیسا سیاسی سیٹ اپ چاہتے ہیں۔

اگرچہ صدر اشرف غنی یہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ بات چیت ان کی حکومت کی قیادت میں ہونی چاہیے اور اس کے لیے تمام افغان دھڑوں پر مشتمل ایک مذاکراتی وفد تشکیل دیں گے۔ تاہم افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اشرف غنی کے صدارتی انتخابات میں جیت کے اعلان کو ان کے سیاسی حریفوں بشمول عبداللہ عبداللہ اور طالبان نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس وقت خدشہ ہے کہ اگر یہی صورتِ حال جاری رہی تو یہ طالبان مخالف حلقوں میں ایک نسلی تقسیم کا باعث بنے گی جس کی وجہ سے بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ مشکل ہو جائے گا۔