امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کی نئی رپورٹس پر امیدواروں کی نکتہ چینی
- ہفتہ 22 / فروری / 2020
- 5300
امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی اُمیدواروں کی دوڑ میں شامل سینیٹر برنی سینڈرز نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں مداخلت سے باز رہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق برنی سینڈرز نے یہ بیان بعض امریکی حکام کی رپورٹس کے بعد دیا ہے جن میں انکشاف ہوا ہے کہ روس برنی سینڈرز کی مہم میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس حکام نے انکشاف کیا تھا کہ روس ایک بار پھر امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کے لیے سرگرم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ روس نہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بلکہ ڈیمو کریٹک سینیٹر برنی سینڈرز کی انتخابی مہم میں مداخلت کے ذریعے امریکی عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کو دی گئی اس بریفنگ میں انٹیلی جنس حکام نے بتایا کہ امریکی سیاست میں اثرانداز ہونے کی یہ روسی کوشش 2016 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی طرح ہے۔ جمعہ کو کیلیفورنیا میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سینڈرز نے کہا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی نے ہمیں بتایا ہے کہ روس 2020 کے الیکشن میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔
برنی سینڈرز نے روس کے صدر ولادی میر پوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر پوٹن اگر میں صدر بن گیا تو آپ کو امریکی انتخابات میں مداخلت کا کبھی موقع نہیں ملے گا‘۔ برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ اس روسی کوشش کا مقصد امریکی عوام کو تقسیم کرنا ہے۔ وہ امریکہ میں افراتفری چاہتے ہیں، وہ نفرت پھیلانا چاہتے ہیں۔
ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے 78 سالہ برنی سینڈرز اس وقت ڈیمو کریٹک اُمیدواروں کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ 'نیواڈا' کاکس میں بھی جیت جائیں گے۔ امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے پیش رفت سے آگاہ شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ امریکی حکام نے روس کی کوششوں کے حوالے سے سینڈرز کو آگاہ کیا۔ حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر قانون سازوں کو بھی مطلع کر دیا ہے۔
کانگریس کے ایک ذرائع کے مطابق روس امریکی صدارتی انتخابات سے قبل غلط معلومات اور پروپیگینڈا مشینری کا استعمال کر رہا ہے۔ تاہم ذرائع نے متنبہ کیا کہ یہ معلومات حتمی نہیں ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مبینہ روسی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دے چکے ہیں۔ ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکی جمہوریت کو نیچا دکھانے کی ہر کوشش ناکام ہو گی۔
امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن نے جمعے کو 'سی این این' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "میں جانتا ہوں کہ روسی صدر پوٹن اُنہیں صدر کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے اور نہ ہی صدر ٹرمپ ایسا چاہتے ہیں۔"
البتہ روس نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ جمعہ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کریملن کے ترجمان دیمٹری پیسکو نے امریکی انٹیلی جنس حکام کی رپورٹ کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔