میرے خلاف تحقیقات بدنیتی پر مبنی تھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
- ہفتہ 22 / فروری / 2020
- 4180
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایک تحریری جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم سمیت ملک کی نامور شخصیات کے برعکس آف شور کمپنیوں کے ذریعے جائیدادیں نہیں چھپائیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی جاسوسی اور حکومت کی جانب سے ادارہ جاتی مفاد کے نام پر پرائیویسی کی خلاف ورزی پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خاندان نے کبھی ان فلیٹس کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم سمیت ملک کی کئی معروف شخصیات کے برعکس یہ فلیٹس کسی آف شور کمپنی یا پاناما، کیمین جزائر آئل آف مین، جرسی میں کسی بلائنڈ ٹرسٹ میں رجسٹر نہیں۔ یا برطانیہ کے ٹیکس سے بچنے یا شناخت چھپانے کے مقاصد سے کسی آف شور ذرائع سے نہیں چھپائے گئے تھے۔ یہ جائیدادیں میری اہلیہ اور بچوں کے ذاتی ناموں پر خریدی گئیں اور انہی کی ہیں۔ یہ فلیٹس ان کے پاسپورٹس پر درج ناموں پر لیے گئے ہیں۔
تحریری جواب میں کہا گیا کہ پہلا ریفرنس دائر ہونے سے 2 ماہ قبل پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نے کہا تھا کہ درخواست گزار (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) جج بننے کے اہل نہیں کیونکہ انہوں نے فیض آباد دھرنے کا فیصلہ تحریر کا تھا ۔ 7 مارچ 2019کو پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے فیض آباد دھرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
تحریری جواب میں کہا گیا کہ 10 اپریل 2019 کو عبدالوحید ڈوگر نے میرے خلاف درخواست جمع کروائی تھی اور 16 اپریل 2019 تک اثاثہ جات ریکوری یونٹ (اے آر یو)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مواد جمع کرنے اور تحقیقات میں مصروف تھا جس کا نتیجہ 20 مئی 2019 کو پہلے ریفرنس کی صورت میں نکلا۔ فریقین نے ریفرنس کے اصل مقصد خود ہی واضح کردیے ہیں۔ یہ ریفرنس کبھی بھی جائیدادوں سے متعلق نہیں تھا۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ ہمارے قانون میں شامل نہیں۔ یہ ہمارے آئین، بزنس قوانین، پارلیمنٹ کے کسی ایکٹ یا کسی آرڈیننس میں شامل نہیں۔ اس حوالے سے سرکاری گزٹ میں بھی کوئی نوٹی فکیشن شائع نہیں کیا گیا۔ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کوئی ادارہ نہیں ہے۔ اس کے پاس کوئی تحقیقات شروع کرنے کی لیگل اتھارٹی نہیں ہے۔