پاک فوج ملکی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے: آرمی چیف
- ہفتہ 22 / فروری / 2020
- 4150
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج ملک کی سلامتی کو درپیش تمام خطرات کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے آپریشن ردالفساد کے 3 سال مکمل ہونے پر ایک ٹوئٹ بیان جاری کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ماضی کے تمام آپریشنز کے فوائد کو مستحکم کرنے، دہشت گردی کے خطرات کے بلاامتیاز خاتمے اور پاکستان کی سرحدوں پر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آپریشن ردالفساد 22 فروری 2017 کو شروع کیا گیا تھا۔ دہشت گردی سے سیاحت کی جانب اس سفر میں قوم کی حمایت سے اور جانی و مالی قربانیاں دے کر سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں نے بے پناہ کامیابیاں حاصل کیں۔
آئی ایس پی آر نے بیان میں شہدا کو سلام پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ہمارے اصلی ہیروز اور ہمارا فخر ہیں۔ انتہا پسندوں کے نظریے کو شکست دینے اور مسلح افواج سے تعاون پر ہم اپنی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔
شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے 2 دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فوائد کو مستحکم کیا جائے گا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج قومی سلامتی اور سیکیورٹی کو درپیش تمام خطرات سے آگاہ ہے اور انہیں ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے پاک فوج کے آپریشن رد الفساد کے 3 سال مکمل ہونے پر اسے انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ’کامیاب ماڈل‘ قرار دیا۔ آپریشن کے اعدادوشمار بتاتے ہوئے ہوئے حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس پر مبنی ایک لاکھ 49 ہزار سے زیادہ کارروائیاں کی گئیں۔ 3 ہزار8 سو سے زائد انتباہ جاری کیے گئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے 4 سو کے قریب دہشت گرد حملوں کی وارننگز دی گئی تھیں۔
یاد رہے کہ 22 فروری 2017 کو پاک فوج نے ملک بھر میں آپریشن ’رد الفساد‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت لاہور میں سیکیورٹی اجلاس میں کیا گیا تھا اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس آپریشن کو شروع کرنے کا مقصد ملک بھر کو اسلحہ سے پاک کرنا، بارودی مواد کو قبضے میں لینا، ملک بھر میں دہشت گردی کا بلاامتیاز خاتمہ اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔