افغانستان میں ایک ہفتے کی جنگ بندی، پاکستان نے کردار ادا کیا
- ہفتہ 22 / فروری / 2020
- 4250
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل پر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ معاہدہ سے پہلے آج افغانستان میں ایک ہفتہ کی جنگ بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے پاکستان کے بغیر افغان امن معاہدہ میں پیش رفت ممکن نہیں تھی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا پُرامن حل آسان تھا نہ ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں دنیا کو یہ باور کروانا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں۔ بلکہ جامع مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے آمادہ کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے امن مذاکرات معطل کرنے کے بعد ہماری کوشش تھی کہ مذاکرات جلد دوبارہ بحال ہوں۔ پاکستان نے 2 مغویوں کو چھڑوانے میں کردار ادا کیا جبکہ دوحہ میں مذاکرات کا شروع ہونا بھی آسان نہیں تھا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ آج دونوں فریق کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تفصیلات طے کرلی ہیں اور ہم ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں تشدد میں کمی بھی لانی ہے اور انشااللہ 29 تاریخ کو اس معاہدے پر دستخط بھی کرنے ہیں۔ آج امریکا سمیت پوری دنیا ہمارے کردار کو سراہ رہی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سارے معاملات ہماری تفصیلی مشاورت بھی ہوئی اور ہم نے ایک روڈ میپ طے کیا تھا۔ ہم نے زلمے خلیل زاد کو یہ بھی کہا تھا کہ ایسے عناصر موجود ہیں جو اس صورتحال کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ ہمیں ان عناصر سے باخبر رہنا ہوگا کیونکہ ایک طبقہ ہے جو جنگ کی کیفیت سے مستفید ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دیانتداری اور کوششیں رنگ لے آئیں کہ بات یہاں تک پہنچی ہے۔ امید ہے کہ یہ بات مزید آگے بڑھے گی۔
انہوں نے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب مائیک پومپیو پاکستان آئے اور میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو اس وقت پاکامریکا تعلقات میں تناؤ تھا۔ میں نے ان سے تعلقات کو از سر نو استوار کرنے کے حوالے سے بات کی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ بہتری کا یہ راستہ کابل سے مشروط ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج میں ان کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ اب یہ افغانستان کی قیادت کی ذمہ داری ہے، جنہوں نے اس جنگ کی جانی اور مالی قیمت ادا کی ہے۔ اس قیادت کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میرا تجزیہ یہ ہے کہ افغانستان کے عوام تو امن چاہتے ہیں (لیکن) اب یہ خواص پر منحصر ہے کہ وہ امن کی کاوشوں کو آگے بڑھاتے ہیں یا اسے سیاسی رسہ کشی کی نظر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط ہوں گے کیونکہ پاکستان کے بغیر ان معاملات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل طالبان نے افغانستان میں 7 دن کے لیے پرتشدد کارروائیوں میں کمی کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد امریکا نے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ جلد طے پانے کی امید ظاہر کی تھی۔ جنگ بندی پر رضامندی کا اعلان ایک امریکی عہدیدار نے کیا۔