یوں روز دل نہ جلایا کریں

  • تحریر
  • ہفتہ 22 / فروری / 2020
  • 4950

بیمار کا حال پتلا ہے،  آنے والے تیماردار کے لئے بتانا  بہت آسان ہے۔ ٹوٹکے  تجویز کرنا  اس سے بھی آسان ہے کہ ان  کی شہادت کی ضرورت  ہوتی ہے نہ تصدیق کا کوئی تردد۔  ہاں قابل عمل شافی حل بتانا  مشکل  ہوتا ہے جو مریض کی حالت اور جیب کے مطابق ہو اور  سریع الاثر بھی ہو۔

سمجھ دار تیمار دار پہلی ذمہ داری تو بخوبی نبھا دیتے ہیں لیکن شافی حل  کی کھوج  مریض اور  اہل  خانہ پر ہی چھوڑنا مناسب سمجھتے ہیں۔ ہم بھی  کچھ ایسی  ہی مشکل میں ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ آئی  ایم ایف  کا کوئی  نابغہ  بتلاتا ہے کہ میاں، خزانے کی حالت  پتلی ہے،  ٹارگٹ کے مطابق ریونیو اکٹھے کر لو ورنہ  خسارے کے  سبب مالی بخار میں مبتلا رہو گے۔  کوئی ورلڈ ریٹنگ ایجنسی  تسلی دیتی ہے کہ مالی بخار  سے فی الحال خطرے کا نقصان نہیں، شارٹ ٹرم آؤٹ لک بہتر ہے لیکن اگر  شرح  نمو کی رفتار یونہی  کم رہی  تو خدا نخواستہ خون کی کمی کا اندیشہ بھی  ہو سکتا ہے۔  ہر دوسرے چوتھے اپنے  ماہرین بھی  یہی کرم فرمائی کرتے رہتے ہیں کہ  صاحب اگر  اکونومی نے  بستر نہ چھوڑا  اور   شرح نمو  نے  قلانچیں نہ بھریں  تو  یہ بخار اور خون  کی کمی کوئی اور ہی رنگ نہ دکھا دے۔

 اسی ہفتے  وزیر تجارت  رزاق داؤد نے ہمیں بتلایا کہ ہمارے مالیاتی  خرابے کا واحد حل یہ کہ برآمدات بڑھائی جائیں۔  کیسے؟  سمر قند و بخارا تک کی روایتیں اور منصوبے بیان کر ڈالے  کہ ایسے  مگر  پرسوں ایک  کانفرنس میں گورنر اسٹیٹ بنک نے  آگاہ کیا کہ برآمدات  میں اضافے کا  سفر تو شروع بھی ہو چکا۔   بقول ان کے پہلی ششماہی میں پاکستان کی برآمدات میں  ساڑھے چار فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کو اگر کوئی انجان کم جانتا ہے تو اس کی آگاہی کے لئے انہوں نے  بتایا کہ ہمارے مقابل  ممالک اس ششماہی میں  کچھ چت ہو گئے اور کچھ لڑکھڑا کر سنبھلنے کے جتن کرتے رہے۔  بھارت  کی برآمدات میں اس ششماہی میں سوا دو فیصد کمی ہوئی، جبکہ اس  دوران برآمدات میں تھائی لینڈ کو اڑھائی، سری لنکا کو ساڑھے تین اور بنگلہ دیش کو سات فی صد کمی کا سامنا کر نا  پڑا۔ 

اس شاندار کارکردگی پر ابھی بغلیں بجانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ  گورنر موصوف کی تقریر کے ایک اور حصے پر پڑ گئی۔  پاکستان کی برآمدات  کا تناسب جی ڈی پی میں دس فی صد سے بھی کم ہے۔ اس قدر کم تناسب  کے ساتھ جن ممالک کے  ٌ شانہ بہ شانہ ٌ  ہم  کھڑے ہیں ان  کا نام انہوں نے  یمن، صومالیہ اور ایتھوپیا  بتلایا۔ اب یہ سن کر ان کی تقریر کے پہلے حصے  سے حاصل ہوئی خوشی بھک سے  کافور ہو گئی۔

ہمارے ہاں سیاست اور  اس سے  جڑے بیانئے  پر تعصبات کا اس قدر غلبہ ہے  کہ مالیاتی اشاریوں میں کوئی  معمولی بہتری آ جائے تو حکومت  شادیانے بجانے اور مخالفین کو کوسنے دینے  میں جت جاتی ہے۔  اسی طرح اپوزیشن کو کوئی مالیاتی اشارئے اپنے  مطلب کے مل جائیں تو وہ حکومت کے لتّے لینے میں کوئی کسر نہیں چھورتی۔ 

مان لیتے ہیں کہ یہ حکومت   اب تک  خلافِ توقع  کوئی معاشی  معجزہ نہیں دکھا سکی لیکن آج کی اپوزیشن  کے پاس جب حکومت تھی، تب کی کارکردگی بھی کوئی  الگ تھوڑی تھی۔ کچھ ایسی  ہی زمین  تھی اور ایسا ہی آسمان تھا۔  الّا ماشاء اللہ کوئی چند ایک  معاملات میں کوئی فرق ہو تو ہو مگر معیشت  پر  وسط مدتی اور طویل مدتی اثر  میں کچھ زیادہ فرق  نہیں رہا۔  برآمدات ہی  کو لے لیجئے جس کی بابت وزیر موصوف اور گورنر موصوف  نے  پتے کی باتیں کیں۔ 2003 سے لے کر 2018 کے دوران بھارت کی برآمدات میں ساڑھے پانچ گنا اضافہ ہوا، سری لنکا  نے اس دوران اپنی برآمدات میں اڑھائی گنا اضافہ کیا۔ ویت نام نے بارہ فی صد سے زائد  اور بنگلہ دیش نے  سات گنا اضافہ کر دکھایا۔  قلم اور دل پر  لکھتے ہوئے ملال طاری ہے کہ اس دوران پاکستان  کی برآمدات میں اضافہ فقط  دو  گنا سے بھی کم ہوا یعنی  1.9 گنا۔  اس دوران معاشی معجزہ کار شوکت عزیز   نے بھی حکومت کی، پی پی پی نے بھی اور  مسلم لیگ ن نے بھی۔

 ہمارے ارد گرد ان معیشتوں کے حجم میں بھی لگاتار اضافہ ہوا، ان میں سے بیشتر ممالک کے ہاں  جی ڈی پی  کی سالانہ شرح نمو سات فیصد کے  لگ بھگ رہی۔ اس مسلسل ترقی اور شرح نمو سے ان معیشتوں کے سائز میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا۔ اس کے بر عکس ہمارے ہاں  معیشت   اوسطاٌ تین چار فی صد سے کبھی زیادہ نمو نہ پا سکی۔   گورنر موصوف  یہ بتاتے ہوئے مروت دکھا گئے کہ  ہمارے ہاں برآمدات  کا جی ڈی پی میں تناسب دس فی صد سے بھی کم ہے۔ اصل حقیقت یہ کہ پاکستان کی برآمدات کا  حصہ جی ڈی پی  میں سال 2000 میں ساڑھے تیرہ فیصد تھا جو سال 2018 میں کم ہو کر محض ساڑھے سات فی صد رہ گیا۔  یعنی  تقریباٌ آدھا رہ گیا، جبکہ اس دوران  بھارت کا حصہ  تیرہ فی صد سے بڑھ کر بیس فی صد ہو گیا،  بنگلہ دیش کا  بارہ فی صد سے بڑھ کر پندرہ فی صد ہو گیا، ترکی کا  انیس فی صد سے بڑھ کر تیس فی صد ہو گیا۔ ویت نام کا حصہ اکہرے ہندسے سے بڑھ کر 95 فی صد ہو گیا۔

یہ سب کیوں نہ ہوتا؟  ہمارے ہاں صنعتی شعبہ  مسلسل سکڑاؤ کا شکار ہے، اس  قدر کہ  معاشی ماہرین کافی عرصے سے دہائی دے رہے ہیں کہ پاکستان کو قبل از وقت ڈی انڈسٹرئیلائزیشن کا سامنا ہے۔  دوسری جانب  زراعت میں تمام بڑی اجناس کی پیدوار میں کمی کا رجحان ہے۔ ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ پانی کی شدید قلت کے  باوجود کپاس کی پیداوار کے ایریا میں کمی جبکہ گنے اور چاول کی پیداوار کے لئے ایریا میں اضافہ ہو رہا ہے۔  ہم اپنے آپ کو زرعی ملک کہلانے پر شاباش  دیتے ہیں لیکن دوسری طرف حالت یہ ہے کہ دنیا میں زرعی  برآمدات  کے  اشاریوں میں ہم عدسے  کی مدد سے  بھی شاید  ہی   کہیں نظر  آئیں۔   جب ملک میں پیداوار میں تنزلی اور ابتری کا یہ عالم ہو گا  تو برآمدات کے لئے  دستیاب کیا ہوگا، کتنا ہو گا جو ہم  برآمد کریں گے۔  جو دستیاب ہے  وہ اس قدر کم  ویلیو کا ہے کہ بازار میں اس کی مانگ اور قیمت بہت کم ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی برآمدات میں  آئرن اور اسٹیل، کیمیکلز، آفس و ٹیلی کام ایکیوئپمنٹ اور آٹو موبائلز  شامل ہیں۔ ٹیکسٹائلز  اور گارمنٹس پراڈکٹس  کا نمبر ان کے بعد  کہیں آتا ہے۔  ہم لے دے کر نصف سے زائد ٹکسٹائلز اور گارمنٹس پراڈکٹس بر آمد کرتے ہیں  جبکہ  ٹیکسٹائلز اور گارمنٹس پراڈکٹس گروپ کا اپنا کل  حصہ دنیا کی ٹریڈ میں تین فی صد کے لگ بھگ ہے۔  پاکستان  میں ویلیو ایڈڈ پیداوار کا تناسب جی ڈی پی میں سال 2000 میں پندرہ فی صد تھا جبکہ یہ تناسب  سال 2017  میں  بارہ فی صد تھا۔

دنیا چوتھے انڈسٹریل انقلاب کے لئے سربہ گریباں ہے اور ہم ہیں کہ ایک ششماہی کے موافق اعدادو شمار پر  شاداں ہیں۔ پاکستان کی  معیشت  کی  تعمیر میں سب بڑی   خرابی کی صورت یہی مضمر ہے کہ  دنیا  کے پیداواری اور معاشی ڈھانچے میں انقلابات در انقلابات  رونما ہوئے لیکن ہم اپنی کٹیا سے باہر نکلنے اور دیکھنے کو روا دار نہ ہوئے۔ کیا سیاسی اور کیا غیر سیاسی حکمران، طویل مدت میزانیہ سب کا ایک سا ہے۔ بیمار کا حال پتلا ہے۔  یہ   بیمار سے زیادہ کسے  معلوم ہو گا، کوئی شافی اور سریع الاثر حل کسی کے  پاس ہے تو  براہِ کرم کچھ کر دکھائے ورنہ  یوں روز دل  نہ جلایا کریں۔