امریکی صدارتی انتخاب کی نامزدگی کے لئے برنی سینڈرز کی دوسری کامیابی
- اتوار 23 / فروری / 2020
- 4230
امریکہ کے صدارتی انتخابات کی نامزدگی کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے برنی سینڈرز نے ریاست نیواڈا میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔
نیواڈا کاکس کے ابتدائی نتائج کے مطابق 78 سالہ برنی سینڈرز نے 46 فی صد رجسٹرڈ ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں جب کہ اُن کے حریف سابق نائب صدر جو بائیڈن 19 فی صد حمایت کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ برنی سینڈرز نے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ کے لیے ہونے والے معرکے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس سے قبل نیو ہیمپشر میں انہوں نے تمام امیدواروں پر سبقت حاصل کی تھی۔
یاد رہے کہ امریکہ میں دونوں بڑی جماعتوں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن پارٹی میں صدارتی امیدواروں کے انتخاب کے لیے دو طریقے رائج ہیں۔ آئیووا کاکس طریقۂ انتخاب کے تحت پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹرز مختلف مقامات پر جمع ہوتے ہیں اور امیدواروں کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ دوسرا طریقہ پرائمری انتخاب ہے جس کے تحت ریاست کے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جاتے ہیں اور رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ کے ذریعے پسندیدہ امیدوار کا انتخاب کرتے ہیں۔
ہفتے کو سامنے آنے والے نیواڈا کاکس کے ابتدائی نتائج کے مطابق ریاست انڈیانا کے شہر ساؤتھ بینڈ کے سابق میئر پیٹ بٹیجج 15 فی صد حمایت کے ساتھ تیسرے پر رہے۔ اس سے قبل آئیووا کاکس میں وہ معمولی فرق سے برنی سینڈرز سے آگے تھے۔ نیواڈا کاکس میں دو خواتین سینیٹرز ایلزبتھ وارن اور ایمی کلوبوچر نے بالترتیب دس اور چار فی صد حمایت حاصل کی۔
یاد رہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کا حتمی امیدوار رواں برس تین نومبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مدِمقابل ہو گا۔ نیواڈا کاکس کے حتمی نتائج سے قبل ہی سینڈرز نے اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لالچ، کرپشن اور جھوٹی حکومت سے امریکی عوام تھک چکے ہیں اور وہ ایسی حکومت چاہتے ہیں جس کی بنیاد انصاف پر مبنی ہو۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں برنی سینڈرز کو مبارک باد دی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ریاست نیواڈا میں برنی بہت پرجوش اور اُن کے مدِمقابل جو بائیڈن کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ نیواڈا کاکس میں کامیابی پر پیٹ بٹیجج نے برنی سینڈرز کو مبارک باد دی۔ تاہم انہوں نے تنقید بھی کی اور کہا کہ مقبول ترین صدر ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے خواہش مند سینڈرز سرمایہ دارانہ نظام کو تمام برائیوں کی جڑ سمجھتے ہیں۔
یاد رہے کہ برنی سینڈرز اپنی ترقی پسند پالیسیوں جیسے یونیورسل ہیلتھ، امیروں اور بڑی کمپنیوں پر ٹیکس میں اضافہ کرنے اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سمیت اس جیسی دیگر پالیسیاں لانے کا اعلان کرتے ہیں۔