جاہلیت کا احیاء

پچھلے بہتر سال میں ہمارے حکمران اداروں نے  پاکستان کے خطِ غُربت سے نیچے سسکنے والے خاک بسر طبقے کی مشکلات پر اپنی توجہ مذکور نہیں کی ۔ وہ ان مسائل کو انتخابی منشور تک ہی محدود رکھے رہے ہیں ۔ اُن کی اپنی عیاشیوں اور خوش خوراکیوں کے مسائل جو پہلے سے ہی اتنے شدید ہیں ، مسلسل بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں اور اگر عوام کی طرف سے مراعات یافتہ طبقوں کی اس افزائشِ عیاشی کے خلاف موثر  مزاحمت نہ ہوئی تو ان کے معدوں کی طمع آزمائی کہیں نہیں تھمے گی اور وہ اپنی نمائشی شان و شوکت کی زندگی کے سارے اخراجات عام آدمی کو بھوکا اور بے آسرا کر کے پورا کرتے رہیں گے ۔

بالکل جس طرح ہم پاکستان کی پہلی اور دوسری نسل کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ما قبلِ اسلام کے عرب معاشرے میں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی قبیح روایت موجود تھی جسے ہم قابلِ نفرت سمجھتے ہیں ، اُسی طرح پاکستان کی نئی نسل کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چھوٹی بچیوں اور بچوں کو جنسی درندگی کا شکار بنا کر اُنہیں قتل کردینا اور لاشوں کو گاڑنے یا دفنانے کے بجائے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دینا ، عرب قبائلی بدوؤں کی سفاکی اور جاہلیت سے بھی زیادہ گھناؤنی اور مکروہ درندگی ہے ۔ لگتا ہے اس عہد میں ہمارے دیہی اور شہری معاشروں میں ایسے لوگ جنم لیتے اور چرتے چُگتے ہیں جن کے خاکی جسموں میں بد روحیں اور آدم خور رہتے ہیں ۔

حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ پچھلے بہتر سال میں پاکستان کا مطلب لا الہ بتانے والے سچ مُچ کے انسان ہیں یا روبٹ طوطے جو عربی لہجے میں ٹیں ٹیں کرتے رہتے ہیں ۔ اس ساری صورتِ حال پر لاہور کے  ایک پولیس افسر مفخر عدیل کا رویہ اور طرزِ زیست ہر درد مند دل کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے کہ جو نوجوان قانون کے تحفظ کا حلف اُٹھا کر پاکستان کے سرکاری خزانے سے تنخواہ لے رہا تھا ، اُس کے اندر قانون کا محافظ نہیں بلکہ ایک آدمخور تھا جس نے مبینہ طور پر جنسی ہوس کے چکر میں اپنے ہی دوست کو بے دردی اور وحشی بن سے قتل کر ڈالا اور لاش کی اس قدر بے حُرمتی کی کہ انسانیت بھی شرما گئی ۔ اب پہلا سوال اس ضمن میں یہ ہوگا کہ کیا ایسا شخص جو کسی سیاسی ڈپو سے پولیس کا عہدہ قیمتاً خریدتا ہے ، اس قسم کے ذمہ دار عہدوں پر فائز ہونے کا اہل بھی ہوتا ہے یا نہیں اور اس سلسلے میں جو لوگ عہدہ فروشی کے مرتکب ہوتے ہیں ، کیا وہ بھی ایسے قاتلوں کے سہولت کار نہیں ہوتے ؟ اور اِس سوال سے ایک سوال اور نکلتا ہے کہ کیا وہ لوگ جو مسلمانوں کے شناختی کارڈ لیے پھرتے ہیں ، وہ سچ مچ کے مسلمان ہونے کے اہل ہیں بھی یا نہیں ؟ مولانا الطاف حسین حالی نے غالباً اسی سمت میں اُنگلی اُٹھاتے ہوئے کہا تھا :

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

اب اُس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے

اور اس کے باوجود کہ اس عہد میں اسلامی مجالس کی بڑی شاندار پبلسٹی ہوتی ہے، جس کا واحد مقصد اپنی نیم ملائیت کو میڈیا کا تماشہ بنانا ہوتا ہے ، سارا مذہبی کلچرل شو بد ترین جعلسازی کے سوا کچھ نہیں  کیونکہ  اللہ کے پیغام کو بندوں تک پہنچانا کوئی کاروبار نہیں جس کا معاوضہ لینا جائز ہو بلکہ مسلمان ہونا تو زمین پر خُدا کا نمائندہ ہونا ہے لیکن ہمارا اس عہد کا مسلمان خُدا سے رشتہ توڑ کر اپنا رشتہ امریکہ اور مال و دولتِ دنیا سے جوڑ چکا ہے ۔ اب خُدا کی کائنات میں تقسیم اس طرح کی ہے کہ آسمان اللہ کا جس میں ناسا کی مداخلت جائز ہے اور زمین امریکہ کی ہے جو اپنے خلائی اور ارضی فوجداروں کے ذریعے جو پینٹا گون میں مقیم ہیں یا سی آئی اے کے دفاتر میں خفیہ سرگرمیوں میں مصروف فرشتے ہیں ، جہاں چاہتے ہیں قبضہ کرتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں قتل کرتے ہیں ۔ اس سائنسی دور میں غلامی کے قرینے بدل گئے ہیں ۔ اب غلامی بلا واسطہ نہیں بالواسطہ مظہر بنا دی گئی ہے جو عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے اداروں کے ذریعے قوموں کو ہی غلام بنا لیتی ہے اور یہ وہ نظام ہے جس کو عالمی سرمایہ داری کے خداؤں نے کئی نسلوں کی شدید محنت کے بعد قائم کیا ہے ۔

 یہ کام وہ اپنے مقامی سیاسی اور عسکری گماشتوں کے ذریعے کرتے ہیں جو اُن کے لیے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ذریعے مفلسی کی چکی میں پسنے والوں کا رزق چوری کر کے، خلیجی ریاستوں ،  یورپ اور امریکہ کے بنکوں میں رکھتے ہیں جو کبھی واپس نہیں آتا  اور سرمایہ داری کے اللہ دین کی غار میں چھپا   سرمایہ بن جاتا ہے۔ مفلسی در اصل غلامی کی جدید ترین شکل ہے جس میں لوگوں کو مجبوری اور بے بسی کے زندان میں پابندِ سلاسل رکھا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے قانون شکنی پر اُتر آتے ہیں ۔ گلی کوچے اور شاپنگ پلازے لوٹ مار کی آماجگاہ بن جاتے ہیں جس سے معاشرہ جنگل میں تبدیل ہوجاتا ہے جہاں جنسی دہشت گردی سے لے کر اغوا برائے تاوان ، نومولود بچوں کی تجارت اور انسانی اعضا اور خون تک کی خریدوفروخت ہوتی ہے ۔ ایسی صورت میں مصر کے اس  اساطیری بازار کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جہاں یوسف بکے تھے مگر اب ہمارے گلی کوچوں سے لے کر ہسپتالوں تک ہر جگہ مصر کا بازار لگا ہے جہاں نومولود تک اغوا کر کے بیچ دیے جاتے ہیں ۔ یہ سب کیا ہے ؟ یہ ہم ہیں اور ہماری اوقات ہے کہ ہم نے اپنی نا عاقبت اندیشی ، جہالت اور نادانی سے ایک ایسی معاشرت تعمیر کی ہے جو مافیا کے جرائم کا اڈہ بن کر رہ گئی ہے اور اس کے باوجود عمرے ہو رہے ہیں ، حج کا سفر ہو رہا ہے ، تاریخِ اسلام کے تابناک ماضی کے قصے سنائے جا رہے ہیں اور کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ اس اشتہار بازی کے سمندر کی تہ میں کیا ہے ۔ اقبال دھیمے سے لہجے میں چاقو سے گدگدی کرتے ہوئے دل کی بات بھی  کہ دیتے ہیں خواہ کوئی سنے یا نہ سنے:

نماز و روزہ و قربانی و حج

یہ سب باقی ہیں تُو باقی نہیں ہیں

تُو کون ؟ مسلمان ۔

 اور آج کا وہ مسلمان جو شہرِ اقبال میں قائد اعظم کی عظمت کی قسم کھاتا ہے جعلی اشیائے خورونوش سے لے کر جعلی ادویات تک بناتا ہے اور یوں وہ گلی گلی موت بیچتا ہے ۔ اور ایسا کام وہی معاشرہ کرتا ہے جو حقیقی کے بجائے  فرضی نظریات کی بنیاد پر استوار ہو ، جعل سازی کا ارتکاب کرتا ہو ۔ اور قسم وحدہ لا شریک کی قائد اعظم اور نظریہ پاکستان کے غداروں نے ایک قوم کو اغوا کر رکھا ہے اور اسلام کو بھی مذاق بنا رکھا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ خُدا واشگاف کہ رہا ہے کہ مجھ سے استہزا یا ٹھٹھہ کرو گے تو میں اس کی جزا اُسی سکے میں ادا کروں گا  اور ہمارے ساتھ تبدیلی کے نام پر یہی ہو رہا ہے ۔