بھارت میں امریکی صدر کا پاکستان کے بارے میں بیان اہم ہے: وزیرخارجہ

  • منگل 25 / فروری / 2020
  • 3980

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق بیان کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اسلام آباد سے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرکٹ اسٹیڈیم میں ہندو توا نظریے کے حامل بہت بڑے مجمع کے سامنے یہ بیان دیا کہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔ خیال رہے کہ بھارت کے دورے کے موقع پر امریکی صدر نے ریاست گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقدہ 'نمستے ٹرمپ' نامی تقریب سے خطاب کیا تھا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کے حوالے سے مثبت انداز میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں، جس کا سہرا ان کوششوں کو جاتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بڑی پیش رفت کے آثار دکھنا شروع ہوگئے ہیں اور ہم کشیدگی میں کمی، وسیع استحکام اور جنوبی ایشیا کی تمام اقوام کے لیے بہتر مستقبل کے لیے پُرامید ہیں'۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت دہشت گردوں کو روکنے اور ان کے نظریے سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی وجہ سے میری انتظامیہ پاکستانی سرحد سے آپریٹ ہونے والی دہشت گرد تنظیموں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کے ساتھ بہت مثبت انداز میں کام کر رہی ہے'۔

امریکی صدر کے بیان پر اپنے رد عمل میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یاد دہانی کروائی کہ جب ہم حکومت میں آئے تھے اس وقت دونوں ممالک کے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے اور اس تناؤ کی وجہ سے ساؤتھ ایشیا اسٹریٹیجی کا اعلان ہو چکا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کو ایک مسئلہ سمجھا جا رہا تھا لیکن آج جو خوشگوار تبدیلی آئی ہے اس پر میں پوری قوم، افواج پاکستان اور سیاسی قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کروایا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امن کا شراکت دار ہے اور پاکستان نے دہشت گردی کو شکست دینے میں جو پیش رفت کی ہے وہ دنیا میں ایک مثال ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے حوالے سے بھی پاکستان کا کردار سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان جس کو بھارت ایک مسئلہ کہتا تھا آج دنیا اس کو ایک حل کے طور پر دیکھ رہی ہے اور خطے میں پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں اور انہوں نے بھارت سے تقاضہ کیا ہے کہ وہ اس خطے میں مثبت کردار ادا کرے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہاتھ بڑھائے اور یہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب دیرینہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکلے گا۔  شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور بھارت کی موجودہ حکومت نے اس پیچیدہ مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے۔