وزیراعظم کا بھارت میں مذہبی فسادات پر عالمی برادری سے اقدامات کا مطالبہ
- بدھ 26 / فروری / 2020
- 4700
وزیراعظم عمران خان نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر عالمی برادری سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ’جیسا کہ میں نے گزشتہ برس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ ایک مرتبہ جن بوتل سے باہر آجائے گا تو خون ریزی شدید ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر آغاز تھا اب بھارت میں مقیم 20 کروڑ مسلمان نشانے پر ہیں‘۔
عمران خان نے کہا کہ آج ہم بھارت میں دیکھ رہے ہیں کہ نازی نظریات سے متاثرہ راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ایک ارب سے زائد آبادی والی جوہری ریاست پر قبضہ کرلیا ہے۔ اپنی ٹوئٹس میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ جب بھی نفرت کی بنیاد پر نسل پرستانہ نظریات کا حامل گروہ غالب آتا ہے، قتل و غارت گری اور خونریزی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں پاکستان میں موجود غیر مسلموں کے حوالے سے بھی عوام کو متنبہ کیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ میں عوام کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر کسی نے پاکستان میں غیر مسلم شہریوں یا ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ ہماری اقلیتیں اس ملک کے مساوی شہری ہیں۔
خیال رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے مذہبی فسادات کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والا احتجاج پیر اور منگل کو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان جھڑپوں کی صورت اختیار کرگیا تھا جس میں پتھروں، تلواروں حتیٰ کہ بندوقوں کا بھی استعمال کیا گیا تھا۔
فسادات کے دوران مشتعل ہجوم نے متعدد گاڑیوں، عمارتوں اور ایک ٹائر مارکیٹ کو نذر آتش کردیا تھا جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں ہر طرف تباہی کے آثار موجود جبکہ معمولات زندگی معطل نظر آئے۔
بھارتی دارالحکومت میں یہ فسادات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔
کشیدہ صورتحال کے پیش نظر دہلی کے شمال مشرقی علاقوں، موجپور، جعفرآباد، چاند باغ اور کراول نگر میں کرفیو نافذ اور شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مار کر ہلاک کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے۔