طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں: صدر ٹرمپ
- بدھ 26 / فروری / 2020
- 3850
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ملک بھر میں ایک ہفتے تک تشدد کی کارروائیوں میں کمی کا سلسلہ ابھی تک بہتر طور پر جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بات منگل کو دورہ بھارت مکمل ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن سے متعلق ان کی پیشکش کو وسیع حمایت ملی ہے جس پر بھارت سمیت سب خوش ہیں۔ سات روزہ عارضی معاہدے اور طالبان کے ساتھ ممکنہ امن سمجھوتے کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم معاہدے کے خاصے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تشدد کی کارروائیوں میں کمی کی شرط کی تکمیل میں دو دن رہ گئے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘
امریکہ اور طالبان کے رمیان امن معاہدے پر 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت میں دستخط ہوں گے۔ اس کے نیتجے میں افغانستان میں موجود تقریباً 13 ہزار امریکی فوجی مرحلہ وار واپس چلے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ 19 برس بعد ہم اپنے جوانوں کو ملک واپس لے آئیں گے۔
ادھر واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا کہ امریکہ افغان صدر اشرف غنی کی دوسری میعاد کے لیے حلف برداری میں فی الحال تاخیر چاہتا ہے ورنہ سیاسی حریفوں کے ساتھ کشمکش کے باعث امن کی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ ہفتے انتخابی کمیشن نے 28 ستمبر کو منعقدہ انتخابات میں اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا تھا۔ صدر غنی جمعرات کو دوسری مدت کے لیے عہدہ سنبھالنے کی تقریب منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ان کے سیاسی حریف افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی کامیابی کا دعویٰ کر رکھا ہے اور انہوں نے متوازی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان نے انتخابی عمل سے متعلق تشویش کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی اس مسئلے کو آئینی اور قانونی ضابطوں کے مطابق طے کرلیا جائے گا۔