دہلی فسادات میں 20 افراد ہلاک، وزیرِ اعلیٰ کا فوج طلب کرنے کا مطالبہ

  • بدھ 26 / فروری / 2020
  • 4670

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار سے جاری احتجاج اور ہنگاموں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 150 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

دہلی کے شمالی مسلم اکثریتی علاقوں میں صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے جہاں پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ دہلی میں یہ احتجاج ایسے وقت شروع ہوئے تھے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر بھارت میں موجود تھے۔ نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے شہر کی صورتِ حال کو سنگین قرار دیا ہے۔

بدھ کو انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پولیس صورتِ حال کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر کرفیو نافذ کرتے ہوئے فوج طلب کی جانی چاہیے۔ اس حوالے سے وہ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے تحریری درخواست کر رہے ہیں۔

پیر کو نئی دہلی میں شہریت قانون کے حامی اور مخالفین کے درمیان لگ بھگ سات گھنٹے تک جھڑپیں ہوئی تھیں جس کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہیں۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے شورش زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے مسلم اکثریتی علاقے جعفر آباد، موج پور، سلام پور اور گوکلپور چوک کا دورہ کیا اور امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا۔

نئی دہلی میں پرتشدد مظاہروں پر کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی بدھ کو ہو گا جس کے دوران قومی سلامتی کے مشیر کمیٹی کو صورتِ حال پر بریفنگ دیں گے۔ نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں کشیدہ صورتِ حال کے پیش نظر بدھ کو ہونے والے میٹرک اور انٹر کے تمام پرچے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ دہلی حکومت نے تمام نجی اسکولوں کو بند رکھنے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔

شورش زدہ علاقوں میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی بھی بڑے اجتماع پر پابندی ہے۔ تاہم دہلی پولیس نے کرفیو کے نفاذ کی تردید کی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے رات گئے شہر کی صورتِ حال سے متعلق درخواست پر سماعت کی اور حکم جاری کیا کہ ہنگاموں کے دوران زخمی ہونے والوں کے علاج معالجے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ جسٹس ایس مرلیدھر کی سربراہی میں ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ آج دوبارہ معاملے کی سماعت کرے گا۔

دوسری جانب جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے نئی دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا اور مطالبہ کیا کہ ہنگاموں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دہلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔