پاکستان ہر قیمت پر اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے تیار ہے: ترجمان پاک فوج
- جمعرات 27 / فروری / 2020
- 5000
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ہم ہر قیمت پر اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے تیار ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا سے گفتگو میں 27 فروری کو پیش آنے والے واقعے، لائن آف کنٹرول (ایل او سی)، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور آپریشن ردالفسار کے 3 سال مکمل ہونے سمیت مختلف معاملات پر بات چیت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں جب بھی مشکل وقت آیا پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان نے اس کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے ایک سال قبل فروری کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاک بھارت جنگ دستک دے چکی تھی۔ 14 فروری کو پلوامہ کا واقعہ ہوا اور بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر بےجا الزامات لگائے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ سچ صرف ایک بار بولنا پڑتا ہے۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہر طرح کے تعاون کی پیش کش کی۔
انہوں نے کہا کہ انتہا پسند بھارت قیادت نے 25 اور 26 فروری کی درمیانی شب ایک ناکام اور بزدلانہ کارروائی کی۔ ہم مکمل طور پر تیار تھے اور جو سرپرائز دشمن ہمیں دینا چاہ رہا تھا، وہ خود سرپرائز ہوکر ناکام لوٹ گیا۔ پاکستان نے اس کے جواب میں دشمن کو دن کی روشنی میں نہ صرف موثر جواب دیا بلکہ اس کے 2 لڑاکا طیارے بھی مار گرائے اور ان کا ایک ونگ کمانڈر ابھے نندن گرفتار کیا۔ بھارت کی اسی بھوکلاہٹ میں بھارت نے اپنا ہی ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 27 فروری کا دن اب ہماری تاریخ میں ایک روشن باب ہے اور اس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے۔ ایک سال قبل آج کے دن افواج پاکستان نے قوم کی امنگوں پر پورا اترکر دکھایا۔ ہم نے ناصرف وطن کی سرحدوں کا کامیاب دفاع کیا بلکہ دشمن کے عزائم کو بھی خاک میں ملایا۔ آج کا دن ان شہدا کے نام ہے جنہوں نے 1947 سے دفاع وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور شہدا کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس وطن کے تحفظ کے لیے قربان کردیا۔ ہم تمام غازیوں کی بہادری کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جو وطن کے دفاع کے لیے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے لڑ رہے ہیں۔
آج کے دن کو یوم تشکر اور یوم عزم قرار دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اللہ کے شکر سے افواج پاکستان قوم کے غیرمتزلزل اعتماد پر اس عزم کے ساتھ پوری اتری کہ خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی جنگیں حب الوطنی، عوام کے اعتماد اور سپاہ کی قابلیت پر لڑی جاتی ہیں۔
میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ عزت و وقار کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ہم اپنے دشمن کی ہر سازش سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج ہر میدان میں دفاع وطن کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ لائن آف کنٹرول کی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہماری مشرقی سرحد پر بھارت کی طرف سے لگاتار خطرات درپیش ہیں۔ بھارت اپنی بوکھلاہٹ اور اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کے لیے جو کھیل، کھیل رہا ہے اس سے پاکستان کی سول و ملٹری قیادت بخوبی آگاہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ طرز عمل خطے میں قیام امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابیوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایل او سی پر بھارتی شرانگیزی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال اب تک 384 سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی جس میں ہمارے 2 شہری شہید اور 30 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم ایک ذمہ دار اور پروفیشنل فورس ہیں۔ جب ہمیں مجبور کیا جاتا ہے تو ہم صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں لیکن بھارتی فوج نہتے شہریوں پر فائرنگ کرتی ہے۔ بھارت کی سول و عسکری قیادت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اگر اس خطے میں جنگ چھڑی تو ہم ہر قیمت پر اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے تیار ہیں۔
دوران گفتگو سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خطہ اور دنیا دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر دو جوہری طاقتیں جنگ میں چلی جائیں تو اس کے نتائج کسی کے بھی قابو میں نہیں ہوں گے۔ اشتعال انگیزی پر کسی کا بھی کنٹرول نہیں ہوتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش یہی ہے کہ امن کا راستہ اپنایا جائے لیکن بدقسمتی سے جس قسم کے بیانات وہاں سے آرہے ہیں ہم انہیں بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس کے لیے ہر قسم کا جواب تیار ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور بھارت کی تمام دفاعی تیاریوں پر مکمل طور پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت اس وقت دنیا میں فوج پر اخراجات کرنے والے ملکوں میں پہلے تین ممالک میں آتا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کا دفاع مضبوط ہے اور ہم 100فیصد تیار ہیں۔