بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد پر ترک صدر اور عالمی اداروں کی نکتہ چینی
- جمعہ 28 / فروری / 2020
- 4590
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ یہ قتل عام بھارت جیسے جمہوری ملک میں ہورہا ہے۔
انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ بھارت اس وقت ایسا ملک بن گیا ہے جہاں قتل عام پھیل رہا ہے۔ ’کس کا قتل عام؟ مسلمانوں کا قتل عام، کون کر رہا ہے؟، ہندو شہری‘۔ انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے والے گروہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے نجی ٹیوشن میں پڑھنے والے بچوں پر لوہے کے سریوں سے حملے کیے تاکہ وہ انہیں قتل کردیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ عالمی امن کو کیسے ممکن بنائیں گے۔ ان کی بہت بڑی آبادی ہے جس کی وجہ سے جب یہ تقریریں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مضبوط ہیں۔ لیکن یہ مضبوطی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت میں کشیدگی عروج پر ہے جہاں ہزاروں پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار سڑکوں پر پیٹرولنگ کر رہے ہیں۔ کئی روز سے جاری اس تشدد کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں 39 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔
یہ تشدد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے ساتھ ہی نئی دہلی کے دورہ کے دوران شروع ہؤا تھا۔ گرو تیگ بہادر ہسپتال کے ڈائریکٹر سنیل کمار کا کہنا تھا کہ ان کے ہسپتال میں 34 ہلاکتیں رجسٹرڈ کی گئیں۔ یہ تمام ہلاکتیں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ لوک نائک ہسپتال کے چیف ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہاں 3 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کشور سنگھ کا کہنا تھا کہ 10 افراد کی حالت نازک ہے۔
دوسری جانب دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد، زخمیوں یا جن کے کاروبار یا گھر تباہ ہوگئے انہیں معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے میں غذا اور دیگر معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے 500 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے اور بین البرداری ہم آہنگی کے لیے شہر بھر میں امن کمیٹی اجلاس منعقد کئے جارہے ہیں۔
مسلمانوں اور ناقدین کے مطابق آر ایس ایس سے جڑی نریندر مودی کی انتہا پسند جماعت سیکولر بھارت کو ہندو قوم بنانا چاہتی ہے۔ حکمران جماعت ان الزامات کو مسترد کرتی یے لیکن حالیہ ہفتوں میں بی جے پی کے سیاست دانوں نے دہلی انتخابات کی مہم کے دوران مظاہرین کو ملک دشمن اور جہادی قرار دیتے ہوئے نفرت اور اشتعال کا ماحول پیدا کیا تھا۔
بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے جج ایس مرلی دھر نے پولیس پر تنقید کرتے ہوئے ان سے بی جے پی کے سیاست دانوں کے خلاف تشدد برپا کرنے کی تحقیقات کرنے کا کہا تھا۔ اسی رات جج مرلی دھر کا دوسری ریاست میں تبادلہ کردیا گیا تھا ،جس پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔ تاہم وزیر قانون روی شنکر کا کہنا تھا کہ یہ معمول کا تبادلہ تھا۔
اقوام متحدہ کی سربراہ برائے انسانی حقوق مچل بیچلیٹ نے بھارتی سیاسی رہنماؤں سے تشدد سے گریز کرنے کا کہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی وسطیٰ ایشیائی امور ایلس ویلز نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'نئی دہلی میں مقتولیں اور زخمیوں کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں'۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے امن کی بحالی کا تقاضہ کرتے ہیں'۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین امن برقرار رکھیں اور تشدد کا راستہ اپنانے سے گریز کریں۔
امریکا میں صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے مد مقابل کھڑے ہونے والے برنی سینڈرز نے وسیع پیمانے پرمسلمان مخالف تشدد پر ٹرمپ کے رد عمل پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ٹرمپ نے اسے بھارت کا معاملہ کہا ہے۔ یہ انسانی حقوق پر قیادت کی ناکامی ہے'۔