دہلی فسادات میں ہلاکتیں 39 تک پہنچ گئیں، پولیس چیف تبدیل
- جمعہ 28 / فروری / 2020
- 4470
دہلی میں مسلم ہندو فسادات میں اب تک 39 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مرکزی حکومت نے شدید تنقید کے بعد دہلی پولیس کے سربراہ کو تبدیل کر دیا ہے۔
بھارت کی مرکزی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران ہنگامہ آرائی کا کوئی بڑا واقعہ سامنے نہیں آیا جس کے پیشِ نظر دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں بڑے اجتماعات پر پابندی 10 گھنٹے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک مرتبہ پھر جمعرات کو پولیس کے اعلیٰ افسران کے اجلاس کی صدارت کی اور صورتِ حال کا جائزہ لیا۔
وزارتِ داخلہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دو سے زائد افراد کے ایک مقام پر جمع ہونے پر عائد پابندی 10 گھنٹے کے لیے اٹھائی جا رہی ہے۔ دہلی میں چار روز کے دوران جلاؤ گھیراؤ، املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مسلم ہندو فسادات پر قابو پانے میں ناکامی پر دہلی کے شہریوں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
دہلی پولیس نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ اگر اُن کے پاس ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی ویڈیوز یا دیگر شواہد ہیں تو وہ فراہم کریں۔ دہلی پولیس نے دو واٹس ایپ نمبرز بھی جاری کیے ہیں جن پر ویڈیو شواہد بھیجے جا سکتے ہیں۔ بھارتی ٹی وی 'این ڈی ٹی وی' کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے بتایا ہے کہ ہنگاموں کے دوران لوگوں کو پولیس پر اعتماد نہیں تھا جب کہ دہلی کے کمشنر پولیس کا کردار بھی مایوس کن تھا۔
بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف اتوار کو ہونے والا احتجاج اس وقت پرتشدد صورت اختیار کر گیا جب اس قانون کے حامی بھی سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اس دوران دونوں گروہوں کے درمیان پتھراؤ اور تصادم ہوا تھا۔ دہلی میں فسادات ایسے موقع پر شدت اختیار کر گئے تھے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ دورے پر بھارت میں موجود تھے۔