شام میں ترک فوج کے 33 فوجی ہلاک، ترکی اور شام میں کشیدگی بڑھ گئی

  • جمعہ 28 / فروری / 2020
  • 5620

شام کے شہر ادلب میں بشارالاسد حکومت کی جانب سے فضائی حملے میں ترکی کے 33 فوجی مارے گئے ہیں جس کے بعد ایک ماہ کے دوران ادلب میں ہلاک ہونے والے ترک فوجیوں کی تعداد 53 ہو گئی ہے۔

شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں ترکی کے حامی جنگجو اور روس کی حامی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں گزشتہ چند ہفتوں کے درمیان تیزی آئی ہے اور ترک فوج کا جمعے کو ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہے۔ ترکی کے شام سے متصل صوبے ہاتے کے گورنر کے مطابق جمعے کو ترک فورسز پر ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں درجنوں فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے ترکی لایا گیا ہے۔

ترک فوجیوں پر ادلب میں حملے کے بعد صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ میں ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ اس سے قبل رجب طیب اردوان نے شام کی بشارالاسد حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر کسی بھی ترک فوجی کی جان لی گئی تو ترکی شام میں کسی بھی مقام کو نشانہ بنائے گا۔

رجب طیب اردوان کے مشیر فرحتین التن نے کہا ہے کہ فضائی حملے کے بعد ترک فوج نے شامی حکومت کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایک بیان میں فرحتین التن نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ادلب میں تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے اور شام میں انسانیت کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکے۔

ترکی کی سرکاری خبر ایجنسی  کے مطابق صدر رجب طیب اردوان کے ترجمان ابراہیم کیلن نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرین سے بھی رابطہ کیا ہے تاہم اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ دوسری جانب یورپی ملکوں کے فوجی اتحاد 'نیٹو' کے سربراہ ینس ستولتن برگ نے ادلب میں حالیہ کارروائی کی مذمت کی اور فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال انتہائی خطرناک ہے اور کسی بھی قسم کی مزید کارروائی خطے میں نئے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ترکی یورپ کے فوجی اتحاد 'نیٹو' کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا بھی اس تنظیم کے رکن ہیں۔