امریکہ اور افغان طالبان میں امن معاہدہ پر ہفتہ کو دستخط ہوں گے

  • جمعہ 28 / فروری / 2020
  • 4690

امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہفتے کو امن معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ افغان جنگ کے فریقین کو امید ہے کہ اس معاہدے کے بعد 19 سالہ طویل جنگ کا خاتمہ ہو سکے گا۔

تجزیہ کار طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو افغانستان کے لیے تاریخ ساز لمحہ اور امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ البتہ ان کے خیال میں افغانستان میں پائیدار امن کے لیے بین الافغان مذاکرات کامیاب ہونا ضروری ہیں۔ جو رواں سال مارچ میں شروع ہو سکتے ہیں۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 18 ماہ تک مذاکرات جاری رہے۔ افغان جنگ کے فریقین امن معاہدہ پر رضامند ہیں اور اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 29 فروری کو ہوگی۔ جس کے بعد افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کا عمل شروع ہوگا اور بین الافغان مذاکرات کے اہم مرحلے کا آغاز ہو گا۔

افغان امور کے ماہر تجزیہ کار اور سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کہتے ہیں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ ایک تاریخ ساز لمحہ ہو گا۔ رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق یہ معاہدہ ایک سُپر پاور اور ایک مسلح گروہ کے درمیان ہورہا ہے۔ دو سال پہلے کسی کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت ہو گی اور معاہدہ بھی طے پا جائے گا۔

خیال رہے کہ بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ ایک ایسے وقت شروع ہونے کا امکان ہے جب افغانستان میں صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان سیاسی چپقلش جاری ہے اور دونوں صدارتی انتخابات جیتنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے بعد بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو گا۔  ان مذاکرات کا ایجنڈا ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد بین الافغان مذاکرات کو کامیاب کرانے میں خطے کے دیگر ممالک خاص طور پر چین، روس اور پاکستان کا کردار اہم ہو گا۔