جنگلوں کا تحفظ انسانی بقا ہے
- تحریر اطہر مسعود وانی
- جمعہ 28 / فروری / 2020
- 11620
پاکستان میں 82خاندانوں اور226نسلوں سے تعلق رکھنے والے درختوں کی430سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔دیودار کا درخت پاکستان کا سرکاری طور پر قومی درخت قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کا صرف چار فیصد رقبہ جنگل پر مشتمل ہے۔آزاد کشمیر میں سرکاری طور پر چنار کے درخت کو قومی درخت قرار دیا گیا ہے۔آزاد کشمیر میں ہر سال پانچ ہزار ایکٹر زمین سے درخت کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس طرح آزاد کشمیر میں اب تک پانچ لاکھ ایکڑ زمین سے درخت کاٹے جا چکے ہیں۔آزاد کشمیر کے قیام کے بعد 23سال تک درختوں کی کٹائی جاری رہی اور اس دوران ایک درخت بھی نہیں لگایا گیا۔پاکستان میں جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے لکڑی کی منتقلی کے خلاف کئی سخت قوانین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود جنگلاتی رقبے میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
آج کی انسانی ترقی کی بنیاد درختوں،لکڑی سے ہی تعمیر ہوئی ہے۔جنگلاتی علاقوں کی کمی دنیا میں موسمیاتی تغیر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ قدیم برصغیر میں حکمران شاہراہیں تعمیر کرتے وقت سڑک کے دونوں طرف درخت لگوایا کرتے تھے لیکن جدید دور میں نئی شاہراہیں،سڑکیں تعمیر کرتے ہوئے اس کے دونوں طرف لگے درخت کاٹ دیئے جاتے ہیں اور شاہراہ کے دونوں طرف درخت لگانے کی کوئی مثال دیکھنے میں نہیں آتی۔ہمار ے ملک میں پودے،درخت لگانے اور ان کی حفاظت کرنے کا رجحان بہت کم ہے۔البتہ پودوں کو توڑ دینا،اکھاڑ دینا،مار دینا ایک عمومی رجحان کے طور پر نمایاں ہے۔اگر پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو لوگ اسے توڑنے،اکھاڑ پھینکنے کا کام ثواب کی طرح شوق سے کرتے ہیں۔
اس سال موسم بہار کی شجر کاری شروع ہو چکی ہے۔اگر محکمہ جنگلات شجر کاری کئے جانے والے علاقوں کی نشاندہی، تشہیر کرے تو شہری خود دیکھ سکیں گے کہ حقیقت میں شجر کاری کی گئی ہے یا صرف دکھاوے کو۔گزشتہ سال سوشل میڈیا پہ ایک وڈیو میں ’ایس سی او‘ کی طرف سے شجر کاری کا ایک ’کارنامہ‘ دکھایا گیا تھا جس میں چیڑ درخت کی سرسبز ٹہنیاں رکھی گئی تھیں۔دور سے شجر کاری معلوم ہوتی تھی لیکن قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ کوئی شجر کاری نہیں کی گئی،صرف دوسروں اور خود کو بیوقوف بنانے کی مشق ہے۔اس شجرکاری پہ ایک اعلی افسر کے نام کا بورڈ آویزاں کیا گیا تھا۔وہ افسر بھی دھوکہ کھا گئے یا وہ بھی جانتے تھے کہ یہ شجرکاری کے نام پہ خود اور دوسروں کو بے وقوف بنانے کی ایک کوشش ہے۔
بعض اوقات کوئی پودا یا درخت نچلے حصے سے یوں کاٹا جاتا ہے کہ جس سے پودے یا درخت کے مر جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس پودے یادرخت کو بچانے کا ایک آزمودہ طریقہ ہے جس نے نوے فیصد نتائج دیے ہیں۔کٹے ہوئے پودے اور درختوں کے اوپر کے حصے پر اچھی طرح گیلا گارا بنا کر، پودے و درخت کے اس حصے پر لیپ کر دیں۔ اوپر کا کٹا ہوا حصہ پوری طرح گارے سے ڈھک دیں، اس کے اوپر پلاسٹک شیٹ لپیٹ کر ڈورے سے باندھ دیں۔ دو تین دن بعد جب پودے ودرخت پہ لگایا گیا گارا خشک ہو جائے تو پہلے والا عمل دہرائیں۔
بہار کا موسم ہے،قوی امید ہے کہ ان درختوں کے اوپر کے حصے سے نئی شاخ پھوٹ پڑے گی۔ نئی شاخ کا پھوٹنا انسانی حیات کو توسیع دینے کے مساوی ہے۔