امن معاہدہ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ طالبان لیڈروں سے ملیں گے

  • اتوار 01 / مارچ / 2020
  • 4360

افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان امن معاہدے طے پانے کے فوری بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر طالبان کی اعلیٰ قیادت سے جلد ملاقات کریں گے۔

افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔ معاہدے کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان سے اگلے 14 ماہ میں فوجوں کے انخلا کو یقینی بنائیں گے۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے طے پایا ہے کہ اس کے اتحادی پہلے 135 دنوں میں 8 ہزار 600 فوجیوں کا انخلا یقینی بنائیں گے۔ معاہدے پر یورپی یونین اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ امریکی سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو اس پر تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں تاہم امریکی صدر نے امن معاہدے پر ہونے والی تنقید کوغیر اہم قرار دیا ہے۔

امن معاہدہ طے پانے کے چند گھنٹوں بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت سے جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد ہی افغان طالبان کی قیادت سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب اور کہاں طالبان کی قیادت سے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے طالبان کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر ہم 18 سال بعد جنگ کو ختم کرنے کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی بیک وقت افغانستان سے 13 ہزار سے ساڑھے 8 ہزار افواج کو فوری طور پر واپس بلا سکتے ہیں اور معاہدہ انہیں یہ بھی اختیار دیتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ واپس فوج کو افغانستان میں تعینات بھی کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب کے دوران افغان طالبان سے امن معاہدے پر تنقید کرنے والے اپنے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کے بیان پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کے سابق مشیر کے پاس یہ موقع موجود تھا کہ وہ اس امن معاہدے کو تکمیل تک پہنچاتے۔ جان بولٹن نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں افغان طالبان سے امن معاہدے پر تنقید کی تھی اور معاہدے کو سابق امریکی صدر باراک اوباما کی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کو عام امریکی عوام قبول نہیں کریں گے۔

جان بولٹن نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹ کی کہ طالبان سے امن معاہدہ کرنےکا مقصد داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو غلط اشارہ بھیجنا ہے اور اس سے امریکا کے دشمنوں کو بھی غلط پیغام جائے گا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایک سال قبل چاہتے تو اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔

واضح رہے کہ افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان طے پانے والا معاہدہ 4 حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے کے مطابق طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جن سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔ معاہدے کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائےگا۔ معاہدے کے تیسرے نکتے کے مطابق طالبان 10مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔ اسی طرح معاہدے کے چوتھے اور آخری نکتے میں کہا گیا ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔