امریکہ طالبان معاہدہ: افغان صدر نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ مسترد کردیا
- اتوار 01 / مارچ / 2020
- 6180
افغان صدر اشرف غنی نے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں شامل 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق شق کو مسترد کردیا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغان حکومت اور طالبان کے درمیان انٹرا افغان مذاکرات کے لیے کوششوں میں مصروف مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ افغان صدر کا یہ بیان امریکی مذاکرات کاروں کے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں 2 دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ روز افغان طالبان اور امریکا کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معاہدہ ہوا، جس کے دوسرے ہی روز افغان صدر اشرف غنی نے کابل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’افغان حکومت نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ امریکا اور طالبان، اعتماد کی فضا کو قائم کرنے کے لیے فوری طور پر سیاسی اور جنگی قیدیوں کو رہا کریں گے، جس کے لیے متعلقہ فریقین سے رابطہ کیا جائے گا اور ان سے اجازت لی جائے گی۔ اس میں مزید کہا گیا تھا کہ 10 مارچ تک افغان حکومت کی قید میں موجود 5 ہزار طالبان قیدیوں کو ایک ہزار قیدیوں کے بدلے میں رہا کردیا جائے گا۔
تاہم قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے افغان صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ امریکا کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا بلکہ وہ صرف ایک سہولت کار کا کردار ادا کررہے تھے‘۔ یاد رہے کہ ہفتے کو دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے پر امریکا کے معاون خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد اور طالبان کے سیاسی سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے دستخط کیے تھے اور اس موقع پر امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو بھی موجود تھے۔
معاہدے سے متعلق منعقدہ تقریب کے موقع پر ملا برادر نے ناروے، ترکی اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے روس، انڈونیشیا اور دیگر پڑوسی ممالک کے سفرا سے بھی ملاقات کی تھی۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ملا برادر سے ملاقات کرنے والے اعلیٰ سطح کے حکام نے افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کیا جبکہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ تاریخی ہے۔