بھارت میں مسلم دشمنی اور ہندوتوا کی سیاست
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 01 / مارچ / 2020
- 5510
بھارت میں مسلم دشمنی یا اقلیتوں کو تنہا کرنا او ران میں ڈر اور خوف پیدا کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنانا اس وقت ہندوتوا کی سیاست کا اہم ایجنڈا ہے۔ اس ایجنڈے کی سیاسی سرپرستی بی جے پی، نریندر مودی، آر ایس ایس سمیت سخت گیر ہندو یا مسلم دشمن ذہنیت رکھنے والے پر تشدد مزاج کے حامل افراد کررہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان افراد کو نہ صرف بھار ت کی موجودہ ہندوتوا سے جڑی مودی حکومت بلکہ ریاستی اداروں کی بھی کسی نہ کسی شکل میں سرپرستی حاصل ہے۔ کیونکہ نریندر مودی او راس کی حکومت نے عملًا ریاستی اداروں کو یرغمال بنا کر ہندوتوا پر مبنی سیاست کی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ دہلی میں مسلم دشمنی کو بنیاد بنا کر جو کھیل کھیلا گیا او رجس طرح مسلم آبادی کو نشانہ بنا کر پیغام دیا گیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ جنونی ہندو کسی بھی شکل میں مسلمانوں کو قبو ل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ کوئی نیا کھیل نہیں گزشتہ کئی برسوں سے ہندوؤں کے اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کو براہ راست تشدد کا نشانہ بنانا وہاں کی روزمرہ معمولات کا حصہ ہے۔دہلی میں پولیس کی سرپرستی میں سخت گیر ہندوؤں نے مسلمانوں کے گھر، دوکانیں، گاڑیوں کو جلایا گیا اور 45کے قریب افراد کا مرنا اور مسجد کے میناروں پر ہندوتوا پر مبنی سیاست کا جھنڈا لہرانا ایک بڑی جنگ کا منظر نامہ پیش کررہا ہے۔
دہلی کے حالیہ مسلم دشمنی پر مبنی فسادات کی سیاسی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ اول امریکی صدر کے دورہ بھارت پر پہلے ہی مودی حکومت کافی دباؤ میں ہے او رمیڈیا کا براہ راست سامنا کرنے سے گریز کررہی ہے۔ دوئم ان واقعات سے قبل امریکہ سمیت بہت سے عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کو اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک قرار دے چکی ہے۔ سوئم اس وقت بھارت کے مختلف شہروں میں مودی مخالفت مہم عروج پر ہے اور شہریت بل کی بنیاد پر مودی حکومت نے بھارت کو سیاسی او رمذہبی بنیادوں پر عملاً تقسیم کردیا ہے۔چہارم امریکی صدر کی جانب سے بھار ت میں پاکستان کی تعریف، دہشت گردی کے خاتمہ میں پاکستان کے مثبت کردار، کشمیر کی صورتحال پر دوبارہ ثالثی کی پیش کش، پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے بہتر تعلقات کو بھی سخت گیر ہندوؤں نے اسے اپنی سیاسی شکست سے تعبیر کیا ہے۔
نریندر مودی او رآر ایس ایس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ بھارت میں مقبوضہ کشمیر اور شہریت بل کی بنیاد پرجو حکومت مخالف لہر چل رہی ہے اس میں مسلم کمیونٹی بھی پیش پیش ہے۔ اسی بنیاد پر اس وقت اقلیتوں او ربالخصوص مسلمانوں کو خاص ٹارگٹ کرکے پیغام دیا جارہا ہے کہ وہ اپنی آوازوں کو بند کرکے بھار ت میں موجود ہندوتوا کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کرے وگرنہ دو سری صورت میں ان کو پرامن طو رپر نہیں رہنے دیا جائے گا۔بنیادی طور پر مسئلہ محض مسلم کمیونٹی یا دیگر اقلیتوں کا ہی نہیں بلکہ بھارت میں موجود ہندو کمیونٹی بھی مودی سے جڑی ہندوتوا سیاست میں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے۔مودی حکومت کو سب سے زیادہ بڑا سیاسی نقصا ن اس بات سے ہورہا ہے کہ اس وقت بھارت کی داخلی سیاست جس میں مقبوضہ کشمیر کی بدترین صورتحال، انسانی حقوق کی پامالی، شہریت بل اور اقلیتوں سے جڑے مسائل صرف بھارت کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی آوازیں او راس پر مزاحمت یا تشویش دنیا میں بھی محسوس کی جارہی ہے۔ مودی حکومت کو گلہ ہے کہ بھار ت کی داخلی سیاست پر دنیا کیوں مداخلت کررہی ہے او رکیوں ہماری داخلی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر سیاسی مخالفین کو سیاسی آکسیجن دی جارہی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا بھار ت میں بیٹھ کر مودی کے سامنے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش اور اس مسئلہ پر ثالثی کی پیش کش عملی طور پر بھارت کے موقف کی نفی ہے۔ کیونکہ بھارت بار بار اس بات پر توجہ دیتا ہے کہ یہ محض پاکستان او ربھارت سے جڑا مسئلہ ہے او راس میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ لیکن امریکی صدر ٹرمپ جب ثالثی کی بات کرتے ہیں تو یقینی طو رپر یہ بھارت کے موقف کی نفی ہے او ر اسے بھارت اپنے خلاف سمجھتا ہے۔ دہلی یا دیگر علاقوں میں مسلم دشمنی کو بنیاد بنا کر جو کھیل کھیلا جارہا ہے وہ کسی سیاسی تنہائی کا شکار نہیں ہوگا او راس کی جھلکیاں ہمیں عالمی سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر بھارت مخالف شکل میں دیکھنے کو ملیں گی۔ اسی طرح جو سیاسی تقسیم مودی نے مذہب کو بنیاد بنا کر بھارت میں پیدا کی ہے اس کا عملی نقصان خود بھارت کی داخلی سیاست کو ہوگا او ران کی حکومت ہر سطح پر بشمو ل ہندو کمیونٹی اور سیکولر سیاست سے جڑے افراد میں بڑے ردعمل کے طور پر سامنے آئے گی۔
اگر نریندر مودی یہ سمجھتے ہیں بھارت کی داخلی سیاست سے جڑے مسائل پر داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر موجود لوگ یا ادارے یا ممالک آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائیں گے تو یہ آج کی گلوبل او رڈیجیٹل دنیا میں ممکن نہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکی صدر بھارت کی جمہوریت کی تعریف کررہے تھے تو دوسری طرف مودی حکومت اپنے سیاسی او رمذہبی مخالفین کو طاقت کے زور پر دبا کر یا ان پر تشدد کرکے اپنی جمہوریت سے جڑ ے دوہرے معیارات کی جھلک پیش کررہی تھی۔اس وقت بھارت جمہوریت کی آڑ میں ہندو فاشسٹ نظریات کے ہاتھوں یرغمال ریاست بن گیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مودی او رآر ایس ایس کا باہمی گٹھ جوڑ خطہ میں تشدد کی سیاست کے پھیلاؤ کا باعث بنے گا اور اس سے سیاسی او رمذہبی تقسیم اور زیادہ گہری بھی ہوگی اور اس کا نتیجہ مزید تشدد کی صورت میں سامنے آئے گا جو خود بھار ت کی سیاست کے لیے بھی خطرہ ہے۔
دہلی کے حالیہ فسادات کی ایک وجہ حالیہ دنوں میں دہلی کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں بدترین شکست ہے اور جنونی ہندو اس شکست کا بدلہ بھی دہلی او رمسلم آبادی سے لینے کی کوشش کررہے ہیں۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی، بجرنگ دل او رآر ایس ایس دہلی میں 2002کی طرح گجرات کا منظر نامہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کو ٹارگٹ کرکے بدترین تشدد اور موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔جو کچھ مودی کی سرپرستی میں ہورہا ہے وہ کوئی انہونی بات نہیں بلکہ بہت سے سیاسی پنڈت یہ بات تواتر سے کررہے تھے کہ مودی کی نفرت اور مسلم دشمنی پر مبنی سیاست سے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو ٹارگٹ کرکے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جائے گی۔
جو کچھ بھارت میں مودی، بجرنگ دل او رآر ایس ایس کی سرپرستی میں ہورہا ہے اس کے آگے بند کیسے باندھا جائے گا یہ ایک اہم بنیادی نوعیت کا سوال ہے۔ کیا بھارت کی سپریم کورٹ ازخود ان معاملات پر نوٹس لے کر مودی حکومت کی پالیسی کے خلاف کوئی اقدام اٹھائے گی یا وہ بھی سمجھوتے کی سیاست کے تحت خاموش ہوکر سخت گیر ہندو ؤں کو پرتشدد سیاست کے لیے کھلی چھٹی دے گی۔اس وقت مودی کی مسلم دشمنی سیاست کو روکنے کے لیے سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔اسی طرح ایک بڑا کردار دنیا او ربڑی طاقتوں کا بنتا ہے کہ وہ محض زبانی مذمتی بیانات سے باہر نکل کر عملی طور پر بھارت پر دباؤ بڑھائیں اور تمام سفارتی، سیاسی اور ڈپلومیسی کے کارڈ کھیل کر بھار ت کو مجبور کرے کہ وہ اقلیتوں اور مسلم دشمنی سے گریز کرکے سب کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
نریندر مودی کی انتہا پسندی اور دیگر مذاہب کے بارے میں متعصبانہ ذہنیت اس وقت بھار ت کی داخلی سیاست کا اہم مسئلہ بن گیا ہے اور جو اس وقت بھار ت میں مودی مخالفت کی لہر چل رہی ہے جس میں ہندو بھی شامل ہیں وہ اسی نکتہ کے گرد گھوم رہی ہے۔ بھارت کی جمہوریت، آئین اور سیکولر سیاست کو عملی طور پر مودی پالیسی نے یرغمال بنادیا ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پرہوگی تو ہم کو کوئی مثبت پہلو دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔لیکن مودی سیاست کے آگے بندھ باندھنے کا کام سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا او رخود پاکستان کو اپنی سیاسی، سفارتی اور ڈپلومیسی کے محاذ پر بھارت کی داخلی سیاست کو عالمی سیاست میں ننگا کرنا ہوگا کہ کیسے بھارت ہندوتوا کی سیاست کو بنیاد بنا کر اقلیتوں سمیت مسلم آبادی کو ٹارگٹ کرکے مسلم کشی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔