آصف زرداری، نواز شریف، یوسف رضا گیلانی کے خلاف نیب کے نئے ریفرنس
- سوموار 02 / مارچ / 2020
- 5050
قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف سمیت 5 ملزمان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر کیا ہے۔
یہ ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کئے گئے۔ جعلی اکاؤنٹس کیس کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے نیب کی جانب سے توشہ خان ریفرنس دائر کیا گیا جس میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم نواز شریف، اومنی گروپ کے سی ای او انور مجید اور ان کے صاحبزادے عبدالغنی مجید کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آصف علی زرداری، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی نے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کیں۔ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے آصف زرداری اور نواز شریف کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا اور توشہ خانہ میں تحائف جمع کروانے کے طریقہ کار میں نرمی کے ذریعے بیرون ملک سے اور معززین کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی۔
ریفرنس کے مطابق ملزمان نے اپنے ذاتی فائدے اور مفاد کے لیے بے ایمانی اور غیر قانونی ذرائع سے گاڑیوں کو اپنے پاس رکھا۔ آصف زرداری نے اومنی گروپ کے سی ای او اور ان کے بیٹے کے ذریعے ادائیگیاں کی جو ان کا دائرہ کار نہیں تھا۔ ریفرنس کے مطابق آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد ادائیگی کی جبکہ انہیں بطور صدر لیبیا اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے بھی گاڑیاں تحفے میں ملیں جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کیں۔
نیب کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ 2008 میں نواز شریف کسی بھی عہدے پر نہیں تھے اور اس عرصے میں انہیں بغیر کسی درخواست کہ توشہ خانے سے گاڑی فراہم کی گئی۔ ان گاڑیوں کی ادائیگیاں جعلی اکاؤٹس سے کی گئیں اور ملزم نے انصاری شوگر ملز کے اکاؤنٹس کا استعمال کرکے 2 کروڑ روپے سے زائد کی غیر قانونی ٹرانزیکشنز کیں۔
ریفرنس کے مطابق ملزمان نیب آرڈیننس کی دفعہ 9 اے کی ذیلی دفعہ 2، 4، 7 اور 12 کے تحت بدعنوانی کے مرتکب ہوئے۔ نیب نے ریفرنس میں استدعا کی کہ ملزمان کا قانون کے مطابق ٹرائل کرکے سخت سزا سنائی جائے۔