کورونا وائرس سے ہلاکتیں 3 ہزار سے تجاوز کرگئیں
- سوموار 02 / مارچ / 2020
- 4910
دنیا میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کی کونسل کے رکن کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے ہیں۔
ایران کے سرکاری ریڈیو کے مطابق وہ ریاست میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے اعلیٰ عہدیدار تھے۔ اکہتر سالہ محمد میر محمدی تہران کے ہسپتال میں ہلاک ہوئے۔ خیال رہے کہ وہ مذہبی رہنما آیت اللہ شبیری زنجانی کے بھانجے تھے اور ان کی والدہ بھی اس سے قبل اسی بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں۔
اس سے قبل ایران کے سابق سفیر برائے ویٹیکن سٹی ہادی خسرو شاہی بھی اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایران میں پھیلنے والے کورونا وائرس کو روکنے کی کوششوں کے سلسلے میں ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے پہلی آن لائن بریفنگ دی گئی۔
دوسری جانب امریکی ریاست واشنگٹن کے صحت حکام نے کورونا وائرس سے ملک میں دوسری ہلاکت کی تصدیق کردی جبکہ عالمی سطح پر وائرس سے اموات کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ حالیہ ہلاکت واشنگٹن کے شہر سیئٹل میں سامنے آئی جس کے حوالے سے وہاں کی ویب سائٹ پر معلومات فراہم کی گئیں۔ ہفتے کے روز حکام نے ہی امریکا میں کورونا وائرس کی پہلی ہلاکت رپورٹ کی تھی۔
نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو کا کہنا تھا کہ ریاست میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق وہ وائرس کی تشخیص کے لیے مسافروں کی اسکریننگ کا آغاز کریں گے اور حفاظتی ماسک کی پیداوار بڑھائیں گے۔ حکام نے کورونا وائرس سے عالمی بحران کے حوالے سے مارکیٹ کے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
چین میں مزید افراد کے ہلاک ہونے کے بعد کورونا وائرس سے عالمی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ وائرس سے اب تک عالمی سطح پر 88 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں اور 60 ممالک تک یہ وائرس پھیل چکا ہے۔
چین کے علاوہ وائرس سے سب زیادہ متاثر ہونے والے جنوبی کوریا میں ہیں۔ وہاں گزشتہ روز 500 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا میں کورونا وائرس کے دو کیسز سامنے آئے، جس کے بعد دنیا کے چوتھے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں بھی اس وائرس کے پہنچنے کی تصدیق ہوگئی۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے صدارتی محل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مریضوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے
آسٹریلیا کے چیف میڈیکل افسر کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ عوام کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا تقریباً ناممکن ہے۔ واضح رہے کہ دنیا میں پہلی مرتبہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے پیش نظر آسٹریلیا نے اپنی سرحد پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ آسٹریلیا کے چیف میڈیکل افسر برینڈن مرفی کا کہنا تھا کہ نئے کیسز کے آنے سے روکنا اب بالکل ناممکن ہے
اسپورٹس کی اشیا بنانے والی معروف کمپنی نائیک نے اپنے یورپی ہیڈکوارٹر کو عارضی طور پر بند کردیا ہے۔ ڈچ خبر رساں ادرے اے این پی کا کہنا تھا کہ نائیک نے یہ فیصلہ ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد کیا۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر بھیجی گئی ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دفتر کو ڈس انفیکٹ کیا جائے گا اور ملازمین 14 روز کے لیے آئی سولیشن میں گھر پر رہیں گے۔