حکومت نے نواز شریف کی واپسی کیلئے برطانیہ کو خط لکھ دیا

  • منگل 03 / مارچ / 2020
  • 7390

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے برطانیہ کو خط لکھنے کی تصدیق کردی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرے دوران شاہ محمو قریشی نے کہا کہ خط لکھ دیا گیا ہے اور تفصیلات بعد میں بتائی جائیں گی۔ خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف گزشتہ برس نومبر میں عدالت کی اجازت کے بعد علاج کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے۔ اس وقت وہ احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت سے اس حوالے سے رابطہ کیا اور پنجاب حکومت کی سفارش اور مشاورت کے بعد برطانیہ کو باقاعدہ خط بھیج دیا گیا۔  خط میں کہا گیا کہ نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے لہٰذا نواز شریف کو وطن واپس بھیجا جائے تاکہ وہ باقی سزا مکمل کر سکیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ حکومت نے موجودہ صورت حال سے بھی برطانوی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافیوں کی جانب سے نواز شریف کی واپسی کے لیے حکومتی خط کے حوالے سے ایک سوال پر تصدیق کرتے ہوئے مختصراً جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ  تفصیلات بعد میں بتائیں گے لیکن خط لکھا ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ وزارت خارجہ نے نواز شریف کی پاکستان واپسی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ چِٹھی پردیسی کو دیس لے آنے کے روانہ کی گئی ہے، اس چِٹھی کے روانہ ہوتے ہی لندن سے آہ و بکا شروع ہوگئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لمبے عرصے کے لیے گئے تھے، 8 ہفتوں کے لیے نہیں گئے تھے‘۔

خیال رہے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے گزشتہ ماہ پریس بریفنگ کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہ دینے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب قانونی طور پر مفرور ہیں اور واپس نہ آئے تو اشتہاری قرار دیے جائیں گے۔  اس سے قبل پنجاب کی کابینہ نے سابق وزیراعظم کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے انہیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا

سابق وزیراعظم گزشتہ برس نومبر کے اواخر میں اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ ایئر ایمبولینس میں علاج کے لیے لندن پہنچے تھے۔ انہیں اکتوبر میں خرابی صحت کے باعث قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے پلیٹلیٹس میں مسلسل کمی کے باعث صحت پیچیدہ ہورہی تھی۔