کرنل (ر) انعام الرحیم کا کورٹ مارشل عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا: سپریم کورٹ
- بدھ 04 / مارچ / 2020
- 6020
سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے وزارت دفاع کے ماتحت ادارے کی حراست سے رہا ہونے والے سابق کرنل انعام الرحیم کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ ان کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا۔
عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں بنچ نے کرنل (ر) انعام الرحیم کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومتی اپیل پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی، ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع بریگیڈیئر فلک ناز عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت کے جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ کرنل انعام ریٹائرڈ ہیں، ان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ کرنل (ر) انعام الرحیم پر فوج نے سنگین الزامات لگائے پھر خود ہی رہا کردیا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انعام رحیم کو رہا کردیا ہے لیکن وہ زیرتفتیش ہیں۔ اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کرنل (ر) انعام رحیم کو عدالتی حکم پر رہا نہیں کیا گیا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انعام الرحیم کی رہائی کی وجوہات الگ ہیں۔ اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ وجوہات کوئی بھی ہوں بات سنگین الزامات کی ہے۔
سماعت کے دوران ہی جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کرچکی ہے کہ سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا۔ سویلین کے کورٹ مارشل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی، (لہٰذا) کرنل (ر) انعام الرحیم کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ سول نوعیت کے جرم پر فوجی افسران کا بھی کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا۔ سول نوعیت کا جرم عام آدمی کرے یا فوجی، ٹرائل فوجداری عدالت کرے گی۔
جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیرسول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا۔ فوجداری عدالت کو اختیار ہے کہ سول جرم میں کورٹ مارشل کو روک سکے۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس معاملے میں لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آچکا ہے۔ جو نکات عدالت نے اٹھائے ہیں ان کے جواب کےلیے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام سے ہدایات لےکر عدالتی سوالات کے جواب دوں گا۔ جس پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں تین ہفتوں کا وقت دےدیا۔
ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے لاپتا افراد کی بازیابی اور مسلح افواج کے انتظامی احکامات کے خلاف متعدد درخواستیں عدالتوں میں دائر کر رکھی تھیں۔ وہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی حملے اور نیوی کے افسران سمیت دیگر افراد کی سزا کے حوالے سے کئی ہائی پروفائل کورٹ مارشل معاملات میں بھی وکیل تھے۔ انہیں 17 دسمبر کو مبینہ طور پر عسکری حکام کی جانب سے اٹھایا لیا تھا۔
20 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے وزارت دفاع اور داخلہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی موجودگی کے حوالے سے بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔ وزارت داخلہ نے ان کی موجودگی سے انکار کیا تھا جبکہ وزارت دفاع کے ایک نمائندے نے بتایا تھا کہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) کے تحت آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔ 24 جنوری کو سابق کرنل ایڈووکیٹ انعام الرحیم راولپنڈی میں اپنے گھر پہنچ گئے۔