افغان فورسز پر طالبان حملوں کے بعد امریکہ کے جوابی حملے
- بدھ 04 / مارچ / 2020
- 5370
افغانستان میں امن کے لیے طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد بھی حالات میں بہتری نظر نہیں آرہی۔ طالبان کے افغان فورسز پر حملوں کے نتیجے میں 20 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد امریکا نے طالبان پرفضائی حملہ کیا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے امریکا طالبان معاہدے کے بعد طالبان پر یہ پہلا فضائی حملہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبے قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن صفی اللہ امیری کا کہنا تھا کہ ضلع امام صاحب میں کم از کم 3 فوجی چیک پوسٹس پر طالبان کے حملوں میں 10 فوجی اور 4 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ وزارت دفاع کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی جبکہ صوبائی پولیس ترجمان ہجرت اللہ اکبری نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
طالبان نے وسطی اروزگان صوبے میں بھی پولیس پر حملہ کیا جس کے بارے میں گورنر کے ترجمان زرگئی عبادی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے 6 پولیس اہلکار ہلاک اور 7 زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بعد افغان امن پر شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں۔ اس دوران طالبان 10 مارچ کو طے شدہ مذاکرات سے قبل، معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی یہ مطالبہ ماننے پر راضی نہیں ہیں۔
دوسری جانب طالبان کے حملوں کے بعد امریکا نے بھی صوبے ہلمند میں عسکریت پسند گروہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا. امریکی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ امریکا نے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان پر فضائی حملہ کیا ہے۔ افغانستان میں امریکی افواج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ کا کہنا تھا کہ طالبان جنگجو افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے چیک پوائنٹس پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ یہ ان حملوں کو روکنے کے لیے دفاعی حملہ تھا۔
ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن امن کے لیے پُرعزم ہے تاہم طالبان کو غیر ضروری حملے بند کرنے چاہئیں اور معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے سیاسی سربراہ ملابرادر سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ پاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بغیر کسی کا نام لیے کہا تھا کہ ان کی 'طالبان رہنما کے ساتھ بہت اچھی گفتگو رہی'۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اور ملا عبدالغنی برادر کے درمیان گفتگو کی تصدیق کی اور کہا کہ امریکی صدر نے طالبان پر افغان حکومت سے مذاکرات میں شرکت کے لیے زور دیا۔
طالبان نے بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ نے افغانوں کو 'سخت لوگ' کہہ کر پکارا اور کہا کہ 'آپ کے پاس ایک عظیم ملک ہے اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ اپنی زمین کے لیے لڑ رہے ہیں'۔