افغانستان میں بھارت کا سیکیورٹی کردارقبول نہیں: وزیرخارجہ
- بدھ 04 / مارچ / 2020
- 5520
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس افغان امن معادہ میں پاکستان صرف سہولت کار تھا۔ ہم افغانستان میں بھارت کا سیکیورٹی کردار نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں 19سال کی طویل لڑائی آسان نہ تھی اور اب امن کی طرف پہلا قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہ بھی کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کم ازکم مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہے کہ یہ راستہ دشوار ہوگا، کئی نشیب و فراز ہوں گے اور رکاوٹیں ہوں گی۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اس نکتے پر متفق کیا گیا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ نہیں ہے۔ آپ نے طاقت، وسائل، ٹیکنالوجی کو آزما کر دیکھ لیا ہے۔ اب کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ باور کراتا رہا ہے کہ سب سے بہترین راستہ سیاسی حل اور مذاکرات ہیں جس کے لیے لوگ تیار ہوئے۔ معاہدے کے راستے میں رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان خلیج تھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایک دوسرے پر وار کیے لیکن خدا خدا کرکے کچھ انہیں قائل کرنے میں پیش رفت ہوئی کہ کب تک یہ لڑائی جاری رہے گی۔ کوئی دوسرا راستہ تلاش کیا جائے اور مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھا جائے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ ہماری ریڈ لائنز بھی ہیں۔ نمبر ایک ہم جوائنٹ آپریشن کے خواہاں نہیں ہیں۔ دوسرے نمبر پر بھارت کے لیے افغانستان میں ہم کوئی سیکیورٹی کردار نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت کے کردار کی مخالفت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری تشویش بجا ہے جس کی ایک تاریخ ہے۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ خدا نخواستہ وہاں کوئی اور مسئلہ ہوا تو مہاجرین کا ایک اور ریلا آسکتا ہے جس کا بوجھ شاید ہم برداشت نہیں کرسکتے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں من حیث القوم ایک اور مسئلے کے لیے تیار رہنا ہوگا کہ اگر وہاں کشیدگی ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں آسکتے ہیں۔ اس کے لیے تیار رہنا پڑے گا اور اس وقت کی وہاں کی حکومت کو کئی چیلنج درکار ہیں۔ افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرگرمیاں ہیں، القاعدہ اور داعش کی موجودگی میں اور دشمن ممالک کی سرگرمیاں ہیں، جو چینلج ہیں۔
وزیرخارجہ نے معاہدے میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پہلے دن سے خواہش تھی اور ہے کہ افغانستان پر امن ہو اور مستحکم ہو اور ان کا امن ہمارے امن سے جڑا ہے۔ اگر ہم اپنے یہاں امن چاہتے ہیں تو ہمیں افغانستان میں امن کی خواہش ہمارے ذہن میں ہونی چاہیے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو بہت فوائد ہیں۔ پہلے نمبر پر جنگ کے بعد تعمیرات کا کام ہوسکتا ہے اور پاکستان پڑوسی کی حیثیت سے تعمیرات میں کردار ادا کرے گا، جس سے معیشت کو فائدہ ہوگا’۔
دوسرے نمبر پر دو طرفہ تجارت کے بڑھنے کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔ امن سے نئی راہیں کھلتی ہیں۔ افغانستان میں امن کی صورت میں کاسا 100 یعنی سستی پن بجلی کے منصوبے کے علاوہ گیس منصوبہ ٹاپی کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح علاقائی روابط بڑھیں گے۔ اور براستہ گوادر کئی ممالک کو جڑنے کا راستہ ملے گا۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔ ہم صرف سہولت کار تھے۔ ہم ضامن بھی نہیں تھے اور نہ ہوسکتے ہیں۔ یہ مشترکہ ذمہ داری ہے اور سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ افغانستان کے عوام امن چاہتے ہیں، آزمائش افغان قیادت کی ہے کہ کیا وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کا جواب وقت دے گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کے اہداف بھی ہیں۔ پہلا ہدف ہے کہ ایک پرامن افغانستان جو اپنے ہمسائیوں کے ساتھ پرامن رہے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ ہمارا ایک مضبوط سیاسی اور معاشی رشتہ ہو، تیسری خواہش ہماری یہ ہے کہ ذمہ دارانہ انخلا مکمل ہوجائے اور چوتھا پرامن سرحد کی خواہش ہے۔ ہم ضمانت چاہتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو جو کہ ہوتی رہی ہے۔ القاعدہ، داعش کے خلاف انسداد دہشت گردی میں تعاون بھی ضروری ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ وہاں داعش بڑھے۔
مہاجرین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان 4 دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے اور ہم چاہتے ہیں ان کی باعزت واپسی ہو۔ آخری نکتہ یہ ہے کہ ہماری کوششوں کے باوجود افغانستان کے ایک طبقے میں ہمارے بارے میں غلط فہمی ہے جس کو ہم ختم کرنا چاہتے ہیں جن میں پشتون کے علاوہ تاجک، ازبک، ترک اور دیگر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان افغانستان میں امن کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان سے 14 ماہ میں غیر ملکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہوگا۔ افغان طالبان نے یقین دلایا ہے کہ افغان سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔